فلسطین اسرائیل تنازع

حملے بند ہونے تک قیدیوں کے تبادلے پر مذاکرات نہیں کریں گے:حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کو حماس کے رہ نما اسامہ حمدان نے غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور یروشلم میں فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے اسرائیلی تمام منصوبوں کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی جنگی جرائم کی شدید مذمت کی۔

حمدان نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے جب تک وہ غزہ کی پٹی پر اپنے حملے بند نہیں کر دیتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو "غزہ کی سرزمین پر کوئی بھی ہدف جنہیں وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں حاصل نہیں کرسکیں گے "۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں کسی بھی زندہ قیدی کو "زبردستی" سے رہا نہیں کر سکے گا۔

قبل ازیں حماس کے رہ نما محمود مرداوی نے پیر کو عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے جنگ بندی یا معاہدے کے لیے جنگ بندی سے قبل کوئی بات چیت نہیں ہو گی "۔

تبادلے کے معاہدے کے حصے کے طور پر حماس کے زیر حراست قیدیوں کی رہائی کے عمل کا منظر
تبادلے کے معاہدے کے حصے کے طور پر حماس کے زیر حراست قیدیوں کی رہائی کے عمل کا منظر

دریں اثنا مذاکرات میں شریک ایک اسرائیلی اہلکار نے انکشاف کیا کہ دونوں فریقوں نے یکم دسمبر کو جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے جنگ بندی اور غزہ میں باقی قیدیوں کی رہائی کے لیے کوئی نئی تجویز پیش نہیں کی ہے۔

ایک اہلکار ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں فریقوں نے ایک نئے معاہدے تک پہنچنے کے امکان پر بات کرنے کے لیے قطری ثالثوں کے ساتھ بات چیت نہیں کی۔

مذاکرات کے معاملے سے واقف فلسطینی ذرائع نے سوموار کو بتایا تھا کہ ثالثوں نے پیشکشیں کرنا شروع کیں اور متعلقہ فریقوں کی نبض کو جانچنا شروع کر دیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ "نبض کی جانچ" کا عمل جو عام طور پر سنجیدہ مذاکرات سے پہلے ہوتا ہے، مختصر ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں