سعودی عرب: سردیوں میں پسندیدہ گرم کپڑوں میں کشمیری، چینی ملبوسات سر فہرست

موسم سرما آتے ہی کپڑوں کی دکانوں پر گہما گہمی بڑھ جاتی اور گرم کپڑوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں سردیوں کا سیزن آتے ہی گرم ملبوسات کی خریداری کے لیے شہری بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ گرم ملبوسات کی خریدار کے لیے آنے والے مردو خواتین کا رش اور بازاروں کی رونقیں اور گہما گہمی بڑھ جاتی ہے۔ دوسری طرف کاروباری طبقے کی مصروفیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ کوئی گرم لحاف خرید کرتا ہے تو کوئی جیکٹ اور کوئی دیگر گرم ملبوسات خرید کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں مملکت میں زیادہ فروخت ہونے والے ملبوسات میں کشمیر کے اونی کپڑےچینی لیدر جیکٹیں زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔

مکہ معظمہ میں موسم سرما کے کپڑے بیچنے والے یوسف بخش نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اس کے فیلڈ ٹور کے دوران کو بتایا کہ موسم سرما کے کپڑوں کی فروخت کے بازاروں میں ہر سال خاص طور پر اس وقت بہت زیادہ تیزی دیکھنے میں آتی ہے اور لوگوں کی طرف سےگرم کپڑوں کی وسیع مانگ ہوتی ہے۔ لیدر جیکٹس کی خریدار بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قسم اور معیار کے لحاظ سے ان اشیا کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جسے "فری" یا سرمائی اسکارف کہا جاتا ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ ان میں شمواہ کی قیمت 65 ریال ہے، جب کہ مخمل کی قیمت 80 ریال تک پہنچ جاتی ہے۔ چوڑے کپڑے کی قیمت تقریباً 125 ریال ہے اور اونی کپڑے کے سوٹ کی قیمت 65 ریال تک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران مختلف رنگوں میں مردوں کے کپڑوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ ایک میٹر کی قیمت 20 سے شروع ہو کر 160 ریال تک پہنچ جاتی ہے۔ ملبوسات میں نگریزی، انڈین، کشمیری اور چینی کپڑے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔

ولید العماری انٹرپرینیورشپ کمیٹی کے وائس چیئرمین اور جدہ چیمبر میں ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ ملبوسات کمیٹی کے سابق رکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سردیوں کا موسم سرمائی کپڑوں، ملبوسات اور عبایہ مارکیٹ میں بڑی خریداری کی تحریک کو70 سے 80 فی صد بحال کرتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئےانہوں نے مزید کہا کہ سرد موسم کے علاقوں میں موسم سرما کے کپڑوں کی دکانوں پر ریہل پہل سردیاں آتے ہی ہو جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں