فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ: بچوں کی قینچی اور کپڑوں کے چمٹوں کی مدد سے بچے کو جنم دینے کا درد ناکہ واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ تیسرے مہینے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی محصور پٹی کے لوگ انتہائی برے اور ناقابل تصور انسانی حالات میں زندگی گذار رہے ہیں۔

غزہ میں الم، تکلیف اور صدمے کی ہزاروں کہانیاں ہیں۔ ان ان گنت واقعات میں ایک عورت کو حفظان صحت اور زچگی کے کم سے کم بنیادی تقاضوں اور سہولیات کے فقدان میں روایتی قینچیوں اور لکڑی کے تیار کردہ چمٹوں پر مشتمل قدیم مواد کا استعمال کرتے ہوئے بچے کو جنم دینے پر مجبور کیا گیا۔

اس تکلیف دہ عمل سے گذرنےوالی خاتون روان السرحی نے کہا کہ "ایک دن کوئی ٹرانسمیشن نہیں تھا اور رات کے 10:30 پر درد نے مجھے مشکل میں ڈال دیا۔ میرے شوہر نے ایمبولینس کو بلانے کی کوشش کی لیکن وہ ان سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے۔ اسرائیل کی طرف سے بمباری جاری رہنے کی وجہ سے مواصلاتی نیٹ ورک منقطع ہو گئے تھے اور ہم کسی سے مدد نہ لے سکے۔

السرحی کی خوش دامن نجاۃ مشعل نے کہا کہ "میں نے اپنی بہو کے بچے کی پیدائش کے مرحلے میں سادہ اور قدیم آلات سے مدد کی، میرے پاس کپڑے پکڑنے کے چمٹے تھے اور بچی کے والد کی مدد سے بچوں کی نال کو کاٹ دیا"۔

اس نے مزید کہا کہ"پھرمیں صدمے میں تھی اور نال کو باندھنا نہیں جانتی تھی۔اس لیے میں لکڑی کے کپڑوں کی پن لائی جس سے ہمیں ناف پر رکھنے میں مدد ملی"۔

غزہ کی پٹی کی 80 فیصد آبادی کا بے گھر

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین ’ UNRWA‘ نے اس سے قبل غزہ کی پٹی کے اندر گذشتہ سات اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً 1.9 ملین افراد کے بے گھر ہونے کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اسرائیل کی طرف سے محصور غزہ کی پٹی کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہوچکی ہے۔

UNRWA سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں نے گذشتہ مہینوں اور ہفتوں میں بارہا خبردار کیا ہے کہ غزہ کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے مگر اسرائیل جنگ بندی پر تیار نہیں ہوتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں