فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ پر فریاد کے درمیان بدنیتی پر مبنی اسرائیلی فوجیوں کی ویڈیوز پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیلی فوجی غزہ میں نجی گھروں کی تلاشی لیتے پھر رہے ہیں۔ افواج کھلونوں کی دکان میں پلاسٹک کے مجسمہ نما کھلونوں کو تباہ یا لاوارث ٹرک کے عقبی حصے میں خور و نوش کے سامان کو جلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اپنے بازو ایک دوسرے کے گرد لپیٹے ہوئے فوجی دائرے میں رقص کرتے ہوئے نسل پرستانہ نعرے لگا رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے تضحیک آمیز سلوک کی کئی وائرل ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئی ہیں جبکہ فوج کو اپنی حکمتِ عملی اور انکلیو پر اس کی سزا دینے والی جنگ میں شہری ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بین الاقوامی احتجاج کا سامنا ہے۔

فلسطینیوں سے غیر انسانی سلوک

ایسی ویڈیوز کوئی نیا یا انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ برسوں کے دوران اسرائیلی فوجی - اور امریکی اور دیگر افواج کے اراکین - تنازعات والے علاقوں میں نامناسب یا بدنیتی پر مبنی کام کرتے ہوئے کیمرے میں قید ہو گئے ہیں۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی ویڈیوز جو بڑے پیمانے پر اسرائیل میں بند کر دی گئی ہیں، ایک ایسے قومی مزاج کی عکاسی کرتی ہیں جو غزہ میں جنگ کا بہت زیادہ حامی ہے جہاں غزہ کے شہریوں کی حالتِ زار پر بہت کم ہمدردی ہے۔

12 دسمبر 2023 کو ایک اسرائیلی توپ خانہ غزہ کی سرحد کے قریب فوجی آپریشن کر رہا ہے۔ (رائٹرز)
12 دسمبر 2023 کو ایک اسرائیلی توپ خانہ غزہ کی سرحد کے قریب فوجی آپریشن کر رہا ہے۔ (رائٹرز)

اسرائیل کے انسانی حقوق کے گروپ بتسیلم کے ترجمان اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی بدسلوکی کو طویل عرصے سے دستاویزی شکل دینے والے ڈرور سدوت نے کہا، "افسرانِ بالا کا غیر انسانی سلوک بہت زیریں درجے پر فوجیوں تک پہنچ رہا ہے۔"

اسرائیل 7 اکتوبر سے غزہ میں شدید لڑائی میں الجھا ہوا ہے جب حماس کے مزاحمت کاروں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کرکے تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا اور تقریباً 240 کو یرغمال بنا لیا تھا۔

غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں 18,400 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً دو تہائی خواتین اور بچے ہیں۔

غزہ کے 2.3 ملین افراد میں سے تقریباً 90 فیصد محصور علاقے میں بے گھر ہو چکے ہیں۔

تباہی اور جنگ پر فخر کرنا

ایسا لگتا ہے کہ یہ ویڈیوز غزہ میں اپنی موجودگی کے دوران فوجیوں نے خود اپ لوڈ کی تھیں۔

ایک وڈیو میں فوجی ملبے کے ڈھیروں میں سائیکل چلا رہے ہیں۔

ایک اور میں ایک فوجی نے مسلمانوں کی جائے نماز کو غسل خانے میں منتقل کر دیا۔ ایک اور میں ایک فوجی غزہ کے ایک گھر سے ملنے والے لنگری (زنانہ ملبوسات) کے ڈبوں کی فلم بنا رہا ہے۔ ایک اور دکھایا گیا ہے کہ ایک فوجی خور و نوش کے سامان کو آگ لگانے کی کوشش کر رہا ہے جس کی غزہ میں قلت ہے۔

ایک تصویر میں ایک اسرائیلی فوجی ایک کمرے کے سامنے بیٹھا ہے جس کے نیچے "خان یونس ربینیکل کورٹ" کے الفاظ کندہ شدہ ہیں۔ اسرائیلی افواج نے حماس کے مزاحمت کاروں سے جنوبی شہر اور اس کے اردگرد لڑائی کی ہے جہاں فوج نے گذشتہ ہفتے نئی طرز کے حملے کیے۔

ایک اور تصویر میں ایک سپاہی ایک گلابی عمارت پر سرخ رنگ میں اسپرے سے پینٹ کیے گئے الفاظ کے ساتھ پوز دے رہا ہے جس میں لکھا ہے، "کندہ نقوش و نگار کو مٹانے کے بجائے آئیے غزہ کو مٹا دیں۔"

قدامت پسند اسرائیلی میڈیا شخصیت ینون میگل کی جانب سے ایکس (سابق ٹویٹر) پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ درجنوں اسرائیلی فوجی بظاہر غزہ میں ایک دائرے میں ناچ اور گا رہے ہیں جس میں یہ الفاظ ہیں، "ہم غزہ کو فتح کرنے آئے ہیں۔ ہم اپنے نعرے کو جانتے ہیں – ایسے لوگ نہیں ہیں جو اس میں شامل نہ ہوں۔"

یہ ویڈیو جسے میگل نے فیس بک سے لیا، ان کے اکاؤنٹ پر تقریباً 200,000 بار دیکھی اور دوسرے اکاؤنٹس پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی۔

میگل نے کہا کہ وہ وڈیوز میں ملوث فوجیوں کو نہیں جانتے۔ لیکن اے پی نے ویڈیوز میں پس منظر، یونیفارم اور سنائی دی گئی زبان کی تصدیق کی ہے اور انہیں آزاد رپورٹنگ کے مطابق پایا ہے۔

میگل نے کہا کہ ایک مقبول دھن کی وجہ سے ویڈیو نے اسرائیلیوں میں اتنی پذیرائی حاصل کی اور اس لیے کہ اسرائیلیوں کو ایک مضبوط فوج کی تصاویر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بیتار یروشلم فٹ بال ٹیم کے زرمیہ نغمے پر مبنی ہے جس کے کٹر پرستار عربوں کے خلاف نسل پرستانہ نعروں اور بدتمیزی کے رویے کی تاریخ رکھتے ہیں۔

انہوں نے منظرِ عام پر آنے والی کچھ دیگر ویڈیوز کی مذمت کی جن میں بظاہر جبالیہ کے شمالی علاقے میں کھلونوں کی دکان کی توڑ پھوڑ جس میں ایک فوجی کھلونوں کو اٹھا کر پھینکتا اور پلاسٹک کے مجسمہ نما کھلونے کا سر توڑ دیتا ہے، اس تباہی کے طور پر جو اسرائیل کے سلامتی کے مقاصد کے لیے غیر ضروری ہے۔

برہنہ اور توہین آمیز

اتوار کو اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے حالیہ ویڈیوز میں نظر آنے والے کچھ اقدامات کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا، "کوئی بھی واقعہ جو اسرائیل کی دفاعی افواج کی اقدار کے مطابق نہ ہو، اس کے لیے تادیبی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔"

یہ ویڈیوز غزہ میں زیرِ حراست فلسطینیوں کی تصاویر اور ویڈیو کے لیک ہونے کے چند دن بعد سامنے آئی ہیں جن کا زیر جامے تک لباس اتار دیا گیا تھا، بعض کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اور ہتھکڑیاں لگی تھیں، ان تصاویر اور وڈیوز نے بھی بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔ فوج نے کہا ہے کہ اس نے یہ تصاویر جاری نہیں کیں لیکن ہگاری نے اس ہفتے کہا کہ فوجیوں نے فلسطینی نظربندوں کے کپڑے اس لیے اتار دیئے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ دھماکہ خیز جیکٹ نہیں پہنے ہوئے تھے۔

حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار اسامہ حمدان نے بیروت میں ایک نیوز کانفرنس میں کھلونوں کی دکان میں فوجی کی ویڈیو نشر کی۔ انہوں نے فوٹیج کو "سخت ناپسندیدہ" قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں