غزہ کو حماس یا فتح کا گڑھ نہیں بننے دیا جائے گا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کے روز صدر محمود عباس کی قیادت میں غزہ پر حکمرانی کے لیے مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کی واپسی کی حمایت مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ نہ فتحستان بنے گا نہ حمستان بنےگا۔ ان کا اشارہ غزہ کو حماس اور فتح دونوں کے اثرو نفوذ سے پاک کرنے کی طرف تھا۔

انہوں نے اپنے دفتر سے شائع ہونے والی ایک ٹیلی ویژن تقریر میں جاری مزید کہا کہ"اسرائیل جنگ کے بعد غزہ کا انتظام ان لوگوں کے ہاتھوں نہیں ہونے دے گا جو دہشت گردی کی حمایت یا مالی معاونت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اوسلو معاہدے کی غلطی نہیں دہراؤں گا۔ ان کا اشارہ اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے درمیان 1993ء میں طے پائے معاہدے کی طرف تھا۔

"ہم واشنگٹن سے متفق نہیں ہیں"

نیتن یاہو نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب غزہ میں جنگ کے بعد کے مرحلے کے حوالے سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ جلد ہی اس حوالے سے امریکا اور اسرائیل کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا حماس کے خاتمے اور قیدیوں کی بازیابی کے لیے غزہ کی پٹی میں زمینی آپریشن کی حمایت کرتا ہے اور جنگ روکنے کے لیے مغربی دباؤ کا سامنا کرتا ہے۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن: اوسلو ٹینکوں کے نیچے مر گیا

دوسری جانب فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکرٹری حسین الشیخ نے منگل کے روز کہا کہ “اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا اوسلو معاہدے اور غزہ میں سات اکتوبر کے حملے کو مساوی قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ تمام فلسطینیوں کے خلاف جنگ کررہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ اوسلو معاہدہ اسرائیل کے جنین سے غزہ تک پھیلے ٹینکوں کے نیچے مرچکا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 1993 میں خاص طور پر 13 ستمبر کو یاسر عرفات اور ازحاک رابن کے درمیان وائٹ ہاؤس میں بل کلنٹن کی موجودگی میں "اوسلو معاہدے" پر دستخط کیے گئے تھے۔

عارضی معاہدے کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا اور اسے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے کچھ حصوں پر محدود اختیار دے دیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ اسرائیلی وزیراعظم برسوں سے اقتدار میں ہیں اور وہ اوسلو معاہدے کو عملا ناکام بنانے کے لیے غرب اردن میں یہودی بستیاں قائم کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں