’اوسلو معاہدہ‘ کیا ہے جسے اسرائیلی وزیراعظم نے ’تباہی‘ قرار دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

13 ستمبر 1993ء کو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پہلے اوسلو معاہدے پر دستخط ہوئے تین دہائیاں گذر چکی ہیں۔اس کی وجہ سے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اسرائیل کے درمیان باقاعدہ امن عمل کا آغاز ہوا اور دونوں نے کسی حد تک ایک دوسرے کی حیثیت کو تسلیم کیا تھا۔

معاہدے کے اتنے سال گذر جانے کے باوجود آج تک اسے فریقین کے درمیان امن کا ثمر سمجھا گیا مگر اب اسرائیلی لیڈر شپ اس سے پہلو تہی اختیار کرتی نظر آتی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کنیسٹ میں خارجہ امور اور سلامتی کمیٹی کے ایک خفیہ اجلاس میں اوسلو معاہدے پرتنقید کرتے ہوئے اسے ایک ’تباہی ‘ قرار دیا۔ .

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اوسلو معاہدے کو ایک بنیادی غلطی تصور کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ سب سے زیادہ صیہونیت مخالف اور سب سے زیادہ یہودیت مخالف لوگوں کے ہاتھوں میں تیار ہوا۔

نیتن یاہو کی یہ تقریر حماس کے بعد کے دور میں غزہ کے مستقبل کے بارے میں امریکا کے ساتھ تنازع کے موقع پر سامنے آئی۔ نیتن یاھو نے کہا کہ وہ اوسلو کی غلطی کو دہرانے نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ’’غزہ کو حماستان ہوگا اور نہ ہی فتحستان‘‘نہیں بننے دیں گے۔

سادہ الفاظ میں دیکھا جائے تو نیتن یاھو اس بات کی طرف اشارہ کررہے تھے کہ وہ حماس اور فتح دونوں سے نالاں ہیں اور غزہ میں دونوں میں سے کسی کی حکومت کی اجازت نہیں دیں گے۔

اوسلو معاہدہ کیا ہے اور اس کی بنیادی دفعات کیا ہیں؟

اوسلو معاہدے، یا اوسلو ون جسے باضابطہ طور پر عبوری خود مختاری کے اصولوں کے اعلان کے نام سے جانا جاتا ہے ایک امن معاہدہ ہے جس پر اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے 13 ستمبر 1993 کو واشنگٹن میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی موجودگی میں دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے کا نام ناروے کے شہر اوسلو کے نام پر رکھا گیا تھا جہاں 1991ء میں امریکا کی سرپرستی میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے تھے۔ اس کے نتیجے میں یہ معاہدہ میڈرڈ کانفرنس کے نام سے جانا جاتا تھا۔

بنیادی اصولوں کا اعلان

فلسطینی خبر رساں ایجنسی (وفا) میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ معاہدہ 17 نکات پر مشتمل ہے۔ اس کا آغاز فلسطینی خود حکومتی اختیاری انتظامات کے اصولوں کے اعلامیے سے ہوتا ہے اور اختتام تنازعات کے تصفیے اور علاقائی پروگراموں کے حوالے سے اسرائیل-فلسطینی تعاون پر ختم ہوتا ہے۔

’پی ایل او‘ کے اس وقت کے سربراہ یاسر عرفات نے خود کو اسرائیل کی ریاست کے امن اور سلامتی کے ساتھ رہنے کے حق اور مستقل حیثیت سے متعلق تمام بنیادی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا عہد کیا تھا۔

اصولوں کا یہ اعلامیہ تشدد سے پاک دور کا آغاز تھا۔ اسی مناسبت سے PLO دہشت گردی کے استعمال اور تشدد کی دیگر کارروائیوں کی مذمت کرتی اور اس تبدیلی کی تعمیل کے لیے قومی چارٹر کی دفعات میں ترمیم کرنے کی پابند تھی۔ پی ایل او کے تمام ممبران کو اس صورتحال کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکنا اور انہیں گرفتار کرنا تھا۔

اسرائیلی حکومت نے اپنے اس وقت کے وزیر اعظم یتحاک رابن کے ذریعے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو فلسطینی عوام کی نمائندہ کے طور پر تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

عبوری خود مختار اتھارٹی کا قیام

اصولوں کے اعلامیے میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے لیے عبوری مدت کےدوران فلسطینی عبوری خود مختار اتھارٹی اور ایک منتخب قانون ساز کونسل کے قیام کی شرط رکھی گئی تھی۔ یہ ایک عبوری حکومت اور انتظامیہ تھی جسےاقوام متحدہ کی قراردادوں 242 اور 338 کی رو سے پانچ سال کے اندر مستقل معاہدے تک پہنچنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

معاہدے میں یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ ان مذاکرات میں سلامتی کے انتظامات، سرحدوں، بین الاقوامی تعلقات اور دوسرے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کے علاوہ یروشلم، پناہ گزینوں اور یہودی بستیوں سمیت باقی ماندہ امور کو حل کیا جائے گا۔


اوسلو (2)

ان معاہدوں کے بعد مزید معاہدوں اور پروٹوکولز جیسے کہ غزہ-جیریکو معاہدہ اور پیرس اقتصادی پروٹوکول طے پائے جو کہ اوسلو (2) نامی معاہدے میں شامل تھے۔

اوسلو (2) پر 4 مئی 1994 کو قاہرہ میں دستخط کیے گئے، جس میں 11 نکات شامل تھے۔ ان میں اسرائیلی فوجی دستوں کا شیڈول انخلاء، اختیارات کی منتقلی، فلسطینی اتھارٹی کی ساخت اور تشکیل اور امن عامہ اور سلامتی کے انتظامات شامل تھے۔

غزہ کی پٹی اور جیریکو [اریحا] کے علاقے کے درمیان ایک محفوظ راہداری کے قیام کے علاوہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تعلقات کے مندرجات شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں