فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کو جھنم بنانےکے بعد’جنت‘ بنانے کا انوکھا اسرائیلی دعویٰ

غزہ کے عوام حماس کو چھوڑ دیں، ہم غزہ کو جنت بنا دیں گے: اسرائیلی عہدیدار کا عربی میں بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری 68 ویں روز بھی جاری ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان اوفیر گینڈلمین نے منگل کے روز کہا ہے کہ غزہ کے لوگوں کو حماس کو چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم غزہ کی پٹی کو جنت بنا دیں گے"۔

انہوں نے عربی میں روزانہ کی بریفنگ میں کہا کہ جنگ جاری رہے گی، چاہے اس میں کتنا ہی لمبا عرصہ لگے،جب تک غزہ اسرائیل کے لیے خطرہ ہے اور حماس موجود ہے جنگ ختم نہیں کریں گے۔

جب ہمیں یقین ہوجائے گا کہ غزہ اب محفوظ علاقہ ہے اور اسرائیل کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں رہا ہے تواس کے بعد جنگ بند ہوگی۔

انہوں نے حماس کے جنگجوؤں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ"یحییٰ السنوار اور محمد الضیف کے لیے مت مرو کیونکہ وہ چھپے ہوئے ہیں۔ اسماعیل ہنیہ غزہ کی پٹی سے باہر اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔

’’تمہاری ساری تکالیف حماس کی وجہ سے ہیں‘‘

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ "آپ کے پاس صرف ایک ہی انتخاب ہے: ہتھیار ڈال دیں یا موت کے لیے تیار ہوجائیں"۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ امداد صرف رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہوگی نہ کہ اسرائیل سے۔

گینڈل مین نے دعویٰ کیا کہ حماس غزہ کی پٹی کے مکینوں سے بندوق کی نوک پر امداد لوٹ رہی ہے۔ انہوں نے غزہ کے باشندوں سے کہا کہ "اگر حماس جنگ شروع نہ کرتی تو غزہ میں کچھ بھی نہ ہوتا۔ آپ کا سارا دکھ حماس کی وجہ سے ہے"۔

"بیروت کو دوسرا غزہ بنا دیں گے‘‘

اسرائیلی ترجمان گینڈل مین نے کہا کہ "شمالی محاذ پر، حزب اللہ راکٹ داغ کر اپنی شدت میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں سے کچھ یونیفیل پوزیشن سے 20 میٹر کے فاصلے سے فائر کیے گئے۔ یہ جان بوجھ کر اقوام متحدہ کی امن فوج کے اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ "بیروت کو دوسر ا غزہ بنا دیں گے۔ حزب اللہ نے حملے نہ روکے تو ہمارا غضب بیروت پر ٹوٹے گا اور ہم اس کو غزہ کے حشر سے دوچار کریں گے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "بہت سے لبنانی جنگ نہیں چاہتے اور ہم اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے۔ ہم اپنی سرحدوں پر دہشت گرد فوج کی موجودگی کو قبول نہیں کریں گے، نہ شمال میں اور نہ ہی جنوب میں"۔

7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد حماس کی طرف سے اسرائیلی بستیوں اور پٹی کے اردگرد موجود فوجی اڈوں پر حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ تیسرے مہینے میں داخل ہو گئی ہے جب کہ غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے منگل کو اعلان کیا کہ 18,412 افراد شہید اور 50,100 زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں