فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کی غزہ پر بمباری کی جبکہ امریکہ کے ساتھ اختلافات میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اسرائیل نے جمعرات کو غزہ پر اس وقت بمباری کی جب وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ مشیر کی یروشلم آمد طے شدہ تھی۔ تحمل سے کام لینے کے امریکی مطالبے پر اسرائیل کے اپنے امریکی اتحادی کے ساتھ اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

جنگ کا اب یہ تیسرا مہینہ ہے جو فلسطینی مزاحمت کار گروپ حماس کے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیرِانتظام وزارتِ صحت کے مطابق اس نے غزہ کا محاصرہ کر کے 18,600 سے زائد افراد کو شہید کر دیا ہے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں اور گھروں، سڑکوں، سکولوں اور ہسپتالوں کو تباہ کر دیا ہے۔

وزارت نے کہا کہ جمعرات کی صبح اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ کی پٹی میں کم از کم 19 افراد جاں بحق ہوئے۔

مغربی کنارے میں بھی 7 اکتوبر سے تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں فلسطینی اتھارٹی کے مطابق جنین شہر میں اسرائیلی حملوں میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔

امریکی صدر جو بائیڈن جن کی حکومت نے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی ہے، بدھ کے روز اس جنگ کی اب تک کی شدید ترین سرزنش کرتے ہوئے کہا غزہ پر اسرائیل کی "اندھا دھند بمباری" بین الاقوامی حمایت کو کمزور کر رہی ہے۔

لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے جارحانہ انداز کو دوگنا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا، "ہم آخر تک، فتح تک اپنا کام جاری رکھیں گے۔ اس سے کم نہیں"۔

اور وزیر خارجہ ایلی کوہن نے کہا کہ حماس کے خلاف جنگ "بین الاقوامی حمایت کے ساتھ یا اس کے بغیر" جاری رہے گی۔

نیتن یاہو اور ان کی جنگی کابینہ کے ساتھ بات چیت کے لیے جمعرات کو بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کی یروشلم آمد طے شدہ تھی۔

سلیوان نے اپنے سفر سے قبل وال سٹریٹ جرنل کے ایک پروگرام کو بتایا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ٹائم ٹیبل پر تبادلۂ خیال کریں گے اور اسرائیلی رہنماؤں پر زور دیں گے کہ "اس قسم کی انتہائی شدت کی کارروائیاں جو ہم آج دیکھ رہے ہیں، ان سے الگ مرحلے کی طرف منتقل ہوں"۔

نیتن یاہو نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ اس بات پر بھی "اختلافات" ہیں کہ تنازعہ کے بعد غزہ پر حکومت کیسے کی جائے گی۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے بدھ کے روز کہا، "غزہ میں یا فلسطینی تحریک میں حماس یا مزاحمتی گروہوں کے بغیر کوئی بھی انتظام ایک فریب ہے۔"

انہوں نے کہا حماس ان مذاکرات کے لیے تیار ہے جو ایک "ایسے سیاسی راستے کی طرف لے جا سکیں جو فلسطینی عوام کے آزاد ریاست کے حق کو محفوظ بنائے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔"

اس ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے جنگ بندی کے لیے ایک غیر پابند قرارداد کی حمایت کی جس سے اسرائیل پر شہریوں کی بہتر حفاظت کے لیے سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اتحادیوں آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ نے قرارداد کی حمایت کی جنہوں نے ایک غیر معمولی مشترکہ بیان میں کہا کہ انہیں "غزہ میں شہریوں کے لیے محفوظ جگہ کم ہونے پر شدید پریشانی تھی" جبکہ واشنگٹن نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

سی این این نے بدھ کے روز امریکی انٹیلی جنس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فضا سے زمین پر استعمال کیے جانے والے گولہ بارود میں سے تقریباً نصف کی کوئی سمت مقرر نہ تھی جو شہریوں کے لیے زیادہ خطرہ بن سکتے ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے کے سربراہ فلپ لازارینی نے بدھ کے روز کہا کہ غزہ کے باشندے "اپنی تاریخ کے سیاہ ترین باب کا سامنا کر رہے تھے"۔

سردی کی بارش نے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق غزہ کی 2.4 ملین آبادی میں سے 1.9 ملین بے گھر ہو جانے کے بعد عارضی خیموں میں رہائش پذیر ہیں کیونکہ خوراک، پینے کے پانی، ادویات اور ایندھن کی فراہمی کم ہے۔

امین ایڈوان نے کہا کہ ان کا خاندان ہزاروں افراد کے ساتھ وسطی غزہ میں الاقصی شہداء اسپتال کے میدان میں خیمہ زن تھا۔

انہوں نے کہا، "بارش کا پانی اندر داخل ہو گیا۔ ہم سو نہیں سکتے تھے۔ ہم نے نائیلون کور تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی نہ مل سکا اس لیے ہم نے پانی کو روکنے کے لیے پتھروں اور ریت کا سہارا لیا۔"

مصر کی سرحد کے قریب واقع جنوبی شہر رفح بے گھر افراد کے لیے ایک وسیع کیمپ بن گیا ہے جہاں لکڑی اور پلاسٹک کی چادروں کا استعمال کرتے ہوئے سیکڑوں خیمے لگائے گئے ہیں۔

ایک بے گھر رہائشی بلال القصاص نے کہا، "ہم نے پانچ دن باہر گذارے۔ اور اب بارش کا پانی خیموں میں بھر گیا ہے۔"

ہوا کے تیز جھونکے نازک ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیتے تھے جبکہ لوگ پلاسٹک کی مزید چادریں لگا کر انہیں مضبوط کرنے کی کوششیں کرتے۔

41 سالہ قصاص نے کہا، "ہم کہاں ہجرت کریں؟ ہمارا عزت و وقار ختم ہو گیا ہے۔ خواتین خود کو کہاں فارغ کریں؟ کوئی بیت الخلاء نہیں ہے۔"

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ بیماریوں کا پھیلاؤ– بشمول گردن توڑ بخار، یرقان اور سانس کی بالائی نالی کا انفیکشن – شدت اختیار کر چکا ہے۔

غزہ کے ہسپتالوں کا نظام تباہ حال ہے، اور حماس کے حکام نے کہا کہ بچوں کے لیے ویکسین ختم ہو چکی ہے جو "صحت کے تباہ کن نتائج" کا انتباہ ہے۔

حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے شمالی غزہ میں کمال عدوان ہسپتال کے وارڈز پر فائرنگ کی۔

فوج نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن اسرائیل نے حماس پر بارہا الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسپتالوں، اسکولوں، مساجد اور ان کے نیچے موجود وسیع سرنگوں کو فوجی مراکز کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

فوجیوں کی تعداد میں اضافہ

اسرائیل میں فوج پر سپاہیوں کی ہلاکتوں کو محدود کرنے اور یرغمالیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اس کے 115 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں منگل کو 10 افراد کی ہلاکت شامل ہے جو 27 اکتوبر کو زمینی حملہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کا مہلک ترین دن ہے۔

7 اکتوبر کو اسرائیل کی 75 سالہ تاریخ کے مہلک ترین حملے میں حماس نے تقریباً 240 یرغمالیوں کو بھی پکڑ لیا۔

حماس نے گذشتہ ماہ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے دوران اسرائیل کے زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں کے بدلے درجنوں یرغمالیوں کو رہا کیا تھا تاہم دیگر کی لاشیں ملی ہیں۔

یرغمالیوں کے اہل خانہ نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے "وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان سے فوری وضاحت" کا مطالبہ کیا ہے جب مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے یرغمالیوں کے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے حکام کو قطر بھیجنے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

رومانیہ میں اسرائیل کے سفارت خانے نے بدھ کے روز غزہ میں قید اسرائیلی-رومانیائی 41 سالہ تل ہیمی کی موت کا اعلان کر دیا۔

واشنگٹن اور لندن نے بدھ کو "حماس کے پرتشدد ایجنڈے کو برقرار رکھنے والے اہم عہدیداروں" کو نشانہ بناتے ہوئے حماس کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان کیا۔

لبنان کے ساتھ اسرائیلی سرحد کے قریب جہاں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ قائم ہے، روزانہ کے واقعات کی وجہ سے تنازعہ پھیلنے کا خدشہ برقرار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں