فلسطین اسرائیل تنازع

بد ترین بمباری کے بعد بھی نومبر میں بھی اسرائیل کو سفارتی و جنگی نقصانات کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اسے ایک ماہ کے دوران بدھ کے روز بد ترین نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس فوجی نقصان میں غزہ کے محاذ پر فرنٹ لائن میں تعینات کمانڈنگ افسر اور کے علاوہ ایک لیفٹیننٹ کرنل کی موت سمیت دس فوجیوں کیی ہلاکت دیکھنا پڑی۔

جبکہ تمام تر اور بد ترین جنگی حربوں کے باوجود اس کی یرغمالیوں تک اسرائیل کی رسائی نہیں ہو سکی ہے۔ صرف وہی اسرائیلی یرغمالی اسے واپس ملے ہیں جو ایک معاہدے کی بنیاد پرحماس نے خود واپس کیے ہیں۔

دوسری جانب سفارتی محاذ پر بھی اسرائیل جس قدر مشکلات اور بدنامی واخلاقی و انسانی گراوٹ کے تعارف سے اب متعارف ہورہا ہے، اس سے پہلے اس طرح کبھی نہیں ہوا تھا۔

یہ بھی پہلا موقع ہے کہ ایک طرف امریکہ ، برطانیہ اور فرانس جیسی طاقتیں اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیں لیکن فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس پھر بھی مقابلے سے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ عالمی برادری نے جنرل اسمبلی کے اجلاس نے اسرائیل کے خلاف بے زاری ظاہر کی ہے۔

ماضی میں اسرائیل کو اس قدر طویل مزاحمت کسی عرب ملک کی جانب سے بھی نہیں ملی تھی۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل اس کے باوجود مشکلات اور نقصان کو دیکھ رہا ہے کہ اس نے حالیہ جنگی تاریخ کی بد ترین مثالوں کو چھو لیا ہے۔

اب تک اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی 23 لاکھ کی آبادی میں سے غالب اکثریت بے گھر ہو کر نقل مکانی کر چکی ہے۔ اسرائیل نے سات اکتوبر سے مسلسل اور پورے غزہ کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ اسی دوران 18000 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 50000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

بے گھر لوگوں کو ایک سے زائد بار پناہ کی تلاش میں اپنے گھروں اور رہائشی جگہوں کو چھوڑنا پڑا ہے۔ انہی میں ایک فلسطینی خاندان نے بتایا رات کو ہونے والی بمباری کے دوران ہونے والے ہلاکتوں کے بعد تیز بارش شروع ہوئی تو ان کے پیاروں کی لاشیں بارش میں ہی بھیگتی رہیں۔ کہ لاشوں کے لی بی سایہ اور چھت موجود نہ تھی۔ انہی میں ایک لاش نومولود شہید بچے کی تھی جو گلابی رنگ کے چھوٹے کمبل میں لپٹی ہوئی تھی۔

احمد ابو ریائش بھی ایک فلسطینی شہری ہے۔ اس نے اپنی پانچ اور سات سال کی دو شہید بھانکیوں کی لاشیں اٹھا رکھی ہیں۔ پاس سے گذرتے ہوئے ایک فلسطینی نے چلاتے ہوئے کہا ' یہ صرف بچوں کو مارتے ہیں، کیا یہ ہم میں سے کسی کو نہیں مار سکتے تھے؟ انہوں نے اپنے غلیظ ہاتھوں سے ہمارے بچوں کو مار دیا ہے۔'

رفح راہداری کے نزدیک لگے ایک پناہ گزین کیمپ میں یاسمین مہنی نے کہا ' میں رات کو جاگتی رہی اور اپنے سب سے چھوٹے سات ماہ کے بچے کو بارش میں بھگتے تیکھ کر روتی رہی۔ کیونکہ خاندان کے باقی بچ گئے پانچ افراد کے پاس ایک ہی کمبل ہے جو سب مل کر استعمال کرتے ہیں لیکن کوئی بھی اس سے پوری طرح اپنے آپ کو ڈھانپ نہیں سکتا۔'

یاسمین مہنی کا مزید کہنا تھا ' ہمارا گھر تباہ کر دیا گیا تھا، ہمارا ایک بچہ شہید ہو گیا، یہاں پہنچنے تک ہمیں چار جگہوں سے میں پناہ لے کر بار بار خانہ بردوش بنے ہیں، یاسمین مہنی کے خیمے کے باہر کچھ بارش سے بھیگے کپڑے لٹکے ہوئے تھے، یہی چند گیلے کپڑے اب ان کے گھر کا کل سامان اور کل کائنات ہیں۔

جبالیا کے نزدیک الفلوجہ کے قبرستان میں بھی اسرائیلی فوج کے زمینی حملوں کی ہولناکی دیکھی جا سکتی ہے۔ قبریں تک بلڈوزروں تلے روند دی گئیں۔ لاشیں کچلی گئیں اور قبروں کے پتھروں کو بھی تاراج کر کے مسرت محسوس کی جاتی رہی۔

اسرائیلی فوج نے ایک ہفتے کی جنگ بندی کے دوران اپنی زمینی کارروائیوں کو بڑھانے کی تیاری کی اور خان یونس سے آگے مزید جنوبی غزہ کی طرف حملے شروع کر دیے۔ اسی دوران شمالی غزہ جو اس سے پہلے ہی ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکا تھا اور اسرائیلی فوج اس میں اپنے حملوں کو مکمل اور اہداف کو پورا قرار دے چکی تھی ، جنگ بندی کے بعد دوبارہ اس پر حملہ آور ہو گئی۔

تاہم شجاعیہ میں اسرائیلی فوج کے ایک فل کرنل ، ایک لیفٹیننٹ کرنل اور دس کے قریب دوسرے فوجیوں کی ایک ہی دن ہلاکت نے اسے اس مہینے کی سب سے بڑی زک پہنچائی ہے۔

حماس نے اسرائیل کے اس اکٹھے نقصان پر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اسرائیلی فوجوں کو غزہ کبھی بھی سرنگوں نہیں ملے گا۔اسرائیلی فوجوں کو بمباری اور گولہ باری کی بھاری جانی قیمت بھی ادا کرتے رہنا ہوگا۔

صرف یہی نہیں اسرائیل کو انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف جاری رکھی گئی بمباری کا جواب جنرل اسمبلی کے تازہ اجلاس میں ایک بار پھر سفارتی حوالے سے مل گیا ہے۔ 193 ملکوں نے فلسطینیوں اور جنگ بندی کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے حامی امریکہ کو 193 کے مقابلے میں صرف 8 ملکوں نے حمایت دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں