سعودی عرب میں وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ معاون کا غزہ جنگ اور حوثی دھمکیوں پر تبادلۂ خیال

امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ اس دورے کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے لیے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان پہلے سے جاری کام کو آگے بڑھانا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے ایک اعلیٰ معاون نے بدھ کے روز سعودی عرب کا غیر اعلانیہ دورہ کیا تاکہ اسرائیل-حماس جنگ کو روکنے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے۔

اہلکار کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے سعودی عرب کے سینئر حکام سے ملاقات کی تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور اسرائیل-حماس کی جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وسیع تر سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے۔

ان کے اس سفر کا مقصد "اس کام کو آگے بڑھانا تھا جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے لیے سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں جاری تھا۔"

واشنگٹن اسرائیل کے حقِ دفاع اور 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کا جواب دینے کے حق کا شدت سے حامی رہا ہے جو اسرائیل کے خلاف اب تک کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا۔

امریکی فوج کی جانب سے خطے میں اثاثہ جات بشمول طیارہ بردار بحری جہاز اور ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کے بعد ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے عراق اور شام میں امریکی افواج کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر سے گذرنے والے تجارتی جہازوں کو اغوا کیا اور نشانہ بنایا ہے۔

امریکی اہلکار نے العربیہ کو بتایا کہ سعودی عرب میں سلیوان کی ملاقاتیں حوثیوں کے حملوں کو روکنے کی کوششوں کے حوالے سے تھیں۔

ایک امریکی دفاعی اہلکار نے منگل کو العربیہ کو بتایا کہ امریکہ بحیرۂ احمر میں اور اس کے اردگرد تجارتی جہازوں کی روش کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بحری ٹاسک فورس تیار کرنے کی کوششوں میں کم از کم 12 ممالک سے رابطے میں ہے۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ ایک موجودہ کمبائنڈ ٹاسک فورس (سی ٹی ایف) 153 کو وسعت دینے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں جس کا اس وقت بحرین میں مرکز ہے۔

سی ٹی ایف-153 میں فی الحال 39 رکن ممالک ہیں لیکن امریکی دفاعی اہلکار نے منگل کو کہا کہ 12 ممالک سے گفتگو اس بات پر مرکوز ہے کہ وہ جہازوں کے سمندری سفر کو محفوظ بنانے کے موجودہ کام میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے بدھ کو اعلان کیا کہ سلیوان جمعرات کو اسرائیل کا دورہ کریں گے اور اسرائیل اور غزہ کی تازہ ترین پیش رفت پر بات چیت کے لیے وہاں کے حکام سے ملاقات کریں گے۔

بائیڈن نے اس ہفتے کہا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اپنی حکومت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ دو ریاستی حل پر یقین نہیں رکھتی۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ غزہ پر مسلسل بمباری کی وجہ سے اسرائیل بین الاقوامی حمایت سے محروم ہو رہا ہے۔ حماس کو عسکری طور پر شکست دینے کی کوشش میں کی جانے والی اس بمباری میں ہزاروں شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں