فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے ہسپتالوں میں بچوں کے لیے ویکسین ختم ہو چکی: وزارت صحت غزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ میں وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ ہسپتالوں میں ویکسین ختم ہو چکی ہے۔ اس وجہ سے ایک اور بڑی تباہی کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ وزارت صحت کا یہ اعلان غزہ میں سات اکتوبر سے جاری بمباری اور گولہ باری کے دوران اسرائیلی فوج کی طرف سے کی غزہ کی ناکہ بندی کے سبب کیا گیا ہے۔

اس انتباہ میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کے لیے بمباری کے جاری ماحول میں صحت و علاج کے دیگر مسائل میں یہ چھوٹی عمر کے بچوں کے لیے ایک اور بڑا چیلنج درپیش ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر رابطہ کار لین ھیسٹنگز کا کہنا ہے فلسطینی علاقے میں یونیسیف اس مسئلے کو دیکھ رہا ہے۔ یو این رابطہ کار کے مطابق ویکسینیشن ہماری ترجیحات میں بہت اہمیت رکھتی ہے، ہم کوشش میں ہیں کہ اس کی فراہمی جاری رہ سکے۔

اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق ادارے ' ڈبلیو ایچ او ' کے سربراہ ٹیڈروس غیبریسس نے اتوار کے روز غزہ میں صحت کی عدم سہولیات کے سبب کہا تھا کہ غزہ میں ہیلتھ سسٹم گھٹنوں کے بل گر رہا ہے۔

36 ہسپتالوں میں سے 14 ہسپتال جزوی طور پر علاج کرنے کے لیے باقی بچے ہیں۔ ٹیڈروس غیبریسس نے کہا خطرہ ہے کہ معاملہ مزید سنگین ہو سکتا ہے، کہ آگے سرما کی شدت شروع ہونےوالی ہے۔

ادھر غزہ میں قائم فلسطینی وزارت صحت نے بھی بین الاقوامی اداروں سے اس جانب فوری متوجہ ہونے کے لیے کہا ہے تاکہ ایک نئی تباہی کو روکا جا سکے۔ اسرائیلی فوج مسلسل ہسپتالوں کو بھی بمباری کے علاوہ اپنے دیگر حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں