محصور علاقے میں مہلک بیماریوں کا پھیلاؤ، غزہ کے باشندوں کی پریشانیوں میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کے محصور باشندے جو اب تک اسرائیل کے بموں اور گولیوں سے بچے ہوئے ہیں، ایک خاموش اور نادیدہ قاتل اب ان کا تعاقب کر رہا ہے: اور وہ ہے بیماری۔

ڈاکٹروں اور امدادی کارکنوں نے خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا کہ خوراک، صاف پانی اور پناہ گاہ کی کمی نے صدمے سے دوچار لاکھوں لوگوں کی قوت و طاقت سلب کر لی ہے اور صحت کا نظام انہدام کے قریب ہونے سے وبائی بیماریوں کا پھیلاؤ ناگزیر ہے۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ذیلی ادارے یونیسف کے چیف ترجمان جیمز ایلڈر نے منگل کو ایک انٹرویو میں کہا، "بیماریوں کا صحیح (معنوں میں) طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 'اس سے کتنا نقصان ہوگا؟"

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 29 نومبر سے 10 دسمبر تک پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں اسہال کے کیسز 66 فیصد بڑھ کر 59,895 تک پہنچ گئے اور اسی عرصے میں باقی آبادی کے لیے 55 فیصد بڑھ گئے۔

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے غزہ میں تمام نظام اور خدمات کے انہدام کی وجہ سے یہ تعداد لامحالہ نامکمل ہے۔

جنوبی غزہ میں خان یونس کے ناصر ہسپتال کے پیڈیاٹرک وارڈ کے سربراہ ڈاکٹر احمد الفارہ نے منگل کے روز رائیٹرز کو بتایا ان کا وارڈ پانی کی شدید کمی کا شکار بچوں سے بھرا تھا جس کی وجہ سے بعض صورتوں میں گردے فیل ہو جاتے ہیں جبکہ شدید اسہال معمول سے چار گنا زیادہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ خان یونس میں گذشتہ دو ہفتوں میں ہیپاٹائٹس اے کے 15 سے 30 کیسز سے آگاہ ہیں: "وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ تین ہفتے سے ایک ماہ تک ہے اس لیے ایک ماہ کے بعد ہیپاٹائٹس اے کے کیسز کی تعداد بےقابو ہو جائے گی۔"

یکم دسمبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے لاکھوں لوگ عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئے ہیں – یعنی متروک عمارات، اسکول اور خیمے۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ کئی دوسرے لوگ کھلی جگہ پر سو رہے ہیں جن کے پاس بیت الخلاء یا نہانے کے لیے پانی کی بہت کم فراہمی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے 10 دسمبر کے اعداد و شمار کے مطابق اسی دوران غزہ کی پٹی کے 36 ہسپتالوں میں سے 21 بند ہیں، 11 جزوی طور پر اور چار کم از کم کام کر رہے ہیں۔

میڈیا آفس کی جاری کردہ ایک تصویر میں غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ 1 نومبر 2023 کو ہسپتال میں ایندھن کی قلت کے اثرات کے بارے میں ایک پریس بریفنگ دے رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
میڈیا آفس کی جاری کردہ ایک تصویر میں غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ 1 نومبر 2023 کو ہسپتال میں ایندھن کی قلت کے اثرات کے بارے میں ایک پریس بریفنگ دے رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

غزہ میں ایم ایس ایف کے آپریشنز کی ایمرجنسی میڈیکل کوآرڈینیٹر میری-اورے پیریوٹ نے کہا کہ طبی خیراتی ادارے نے 10 دن قبل خان یونس میں ایک صحت مرکز چھوڑ دیا تھا - کیونکہ یہ علاقہ اسرائیل کے انخلاء کے احکامات میں آتا تھا - جہاں ادارہ سانس کی نالی کے انفیکشن، جلد کے انفیکشن اور اسہال کا علاج کر رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب دو چیزیں ناگزیر تھیں۔

انہوں نے کہا، "اول تو یہ کہ پیچش جیسی کوئی وبا غزہ میں پھیل جائے گی اگر ہم کیسز کی اس رفتار سے جاری رہے اور دوسرا یہ کہ یقیناً نہ وزارتِ صحت اور نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان وباؤں کو روکنے میں کوئی مدد کر سکیں گی۔"

شعبہ طب حملے کی زد میں

حماس کے اسرائیل پر حملے سے غزہ کی جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے تعلیمی محققین نے 6 نومبر کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ صحت پر اس تنازعہ کے بالواسطہ اثرات وقت کے ساتھ ساتھ کس طرح خراب ہوتے جائیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ جنگ کے دو ماہ بعد خوراک اور نگہداشت میں خلل کی وجہ سے بچوں کی غذائی قلت ایک اضافی بوجھ ہو گی اور ماؤں کی خوراک خراب تر ہو جائے گی۔ "وقت کے ساتھ ساتھ، وبائی امراض کا شکار بنانے والے پیتھوجینز کے متعارف ہونے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔ خطرے کے عوامل: زیادہ ہجوم، ناکافی (پانی اور صفائی)۔

امدادی کارکنوں نے کہا ہے کہ لندن کے ماہرین نے جو پیشین گوئی کی تھی، بالکل وہی اب واقع ہو رہا ہے۔ تین ماہرین نے کہا پیچش اور پانی کے اسہال جیسی بیماریاں اتنے ہی بچوں کو ہلاک کر سکتی ہیں جتنے اسرائیلی بمباری سے اب تک ہو چکے ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی اونروا نے کہا ہے کہ دو ماہ کی وحشیانہ جنگ کے ساتھ ساتھ "انتہائی سخت محاصرے" نے 2.3 ملین کی آبادی میں سے 1.3 ملین غزہ باشندوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ بحیرہ روم کے کنارے زمین کی پٹی پر اپنے لیے محفوظ مقامات تلاش کریں۔

یو این آر ڈبلیو اے کی کمیونیکیشنز کی ڈائریکٹر جولیٹ ٹوما نے کہا، "کئی پناہ گاہیں اپنی گنجائش سے چار یا پانچ گنا زیادہ ان لوگوں سے بھری پڑی ہیں جو حفاظت کے متلاشی ہیں۔ زیادہ تر پناہ گاہیں بیت الخلاء یا غسل خانے یا صاف پانی سے آراستہ نہیں ہیں۔"

اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین [اونروا] کے کارکنان ایجنسی کے زیرِ نگرانی ایک اسکول کے کھیل کے میدان میں بات کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین [اونروا] کے کارکنان ایجنسی کے زیرِ نگرانی ایک اسکول کے کھیل کے میدان میں بات کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

ٹوما نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یو این آر ڈبلیو اے عملے کے 135 ارکان ہلاک ہو چکے ہیں اور 70 فیصد عملہ اپنے گھروں سے بھاگ گیا ہے۔ یہ وہ دو وجوہات ہیں کہ یو این آر ڈبلیو اے جنگ سے پہلے اپنے 28 پرائمری ہیلتھ کلینک میں سے اب صرف نو کو چلا رہا ہے۔

حقِ صحت سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ تلالینگ موفوکینگ نے 7 دسمبر کے بیان میں کہا کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں صحت کی نگہداشت کی سہولیات پر کم از کم 364 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا، "طب کی پریکٹس حملے کی زد میں ہے۔"

وزارتِ صحت نے بدھ کو بتایا کہ 7 اکتوبر سے وزارت کا 300 سے زیادہ غزہ کا عملہ اور طبی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

'وبا کا امکان'

شامی سرجن سلیم نامور جنہوں نے شامی حکومت کی طرف سے برسوں کے طویل محاصرے کے دوران دمشق کے باہر مشرقی غوطہ میں بیماروں اور زخمیوں کا علاج کیا تھا، کہتے ہیں کہ غزہ کی تصاویر نے انہیں ان مناظر کی یاد دلا دی جن کا انہیں بخوبی تجربہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ غوطہ میں ہیپاٹائٹس اور تپِ دق پھیل گیا کیونکہ اس کا سیوریج سسٹم تباہ اور پانی آلودہ ہو گیا تھا۔ غذائیت کی کمی نے لوگوں کی قوتِ مدافعت کو کمزور کر دیا اور -گولہ باری سے لگنے والے زخم ایک طرف- بچوں کے لیے اینٹی بائیوٹکس اور ویکسین کی کمی نے بیماری کے پھیلاؤ میں اضافہ کیا۔

نامور جنہوں نے 2018 میں غوطہ چھوڑ دیا اور اب جرمنی میں رہتے ہیں، نے کہا، "محاصرہ -- معاشرے کو تباہ کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس کا مطلب ہے بھوک، اس کا مطلب ہے طبی سامان کی قلت، نہ بجلی، نہ ریفریجریشن، نہ ادویات یا خوراک کو محفوظ کرنے کا کوئی طریقہ، نہ گرمائش۔"

غزہ کی وزارتِ صحت نے بدھ کے روز کہا کہ اس کی بچوں کی ویکسین کی سپلائی ختم ہو گئی ہے۔ بدھ کو رات بھر تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارش نے رفح کے ایک کیمپ کے کمزور خیموں کو اکھاڑ پھینکا اور زمین پر پانی بھر گیا جس سے لوگ گیلی ریت پر سردی میں رات گذارنے پر مجبور ہو گئے۔

13 دسمبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ میں فلسطینی بارش میں گذر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
13 دسمبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ میں فلسطینی بارش میں گذر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

منگل کو رائٹرز کی ملاحظہ کردہ اس فہرست کے مطابق جو اقوامِ متحدہ اس وقت غزہ کے لیے استعمال کر رہا ہے: اقوامِ متحدہ 14 بیماریوں کے واقعات کا سراغ لگا رہا ہے جن کے "وبائی شکل اختیار کرنے کا امکان" ہے اور وہ پیچش، پانی کے اسہال، اور شدید سانس کے انفیکشن کی بڑھتی ہوئی شرح کے بارے میں سب سے زیادہ فکر مند ہے۔

جان ہاپکنز بلومبرگ سکول آف پبلک ہیلتھ کے سینٹر فار ہیومینٹیرین ہیلتھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پال سپیگل جو قاہرہ میں اقوامِ متحدہ ریسپانس پر کام کر رہے ہیں، نے کہا کہ اسہال کی وبا کل تک پھیل سکتی ہے جب تک کہ مزید امدادی ٹرک نہ بھیجے جائیں اور صاف پانی فراہم نہ کیا جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کا منصوبہ ہے کہ جلد ہی غزہ میں بچوں کے درمیانی اوپری بازو کے فریم کی پیمائش کرکے جو ایم یو اے سی ٹیسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، ان میں شدید غذائی قلت کی سطح کو دستاویزی شکل دینا شروع کی جائے۔

سپیگل نے کہا، "جب آپ کو شدید غذائیت کی کمی ہوتی ہے جسے ویسٹنگ کہا جاتا ہے تو لوگ اس سے مر جاتے ہیں لیکن پھر وہ دیگر بیماریوں کا بھی بہت زیادہ شکار ہوتے ہیں۔"

اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام نے پیر کے روز کہا کہ جنوبی غزہ سے نقل مکانی کرنے والے 83 فیصد لوگوں کو وافر خوراک نہیں مل رہی۔

'انسانی استعمال کے لیے غیر موزوں'

امدادی کارکنوں نے کہا وبائی امراض سے بچنے کے لیے ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کو بڑی تعداد میں ایسی بیماریوں کے لیے لوگوں کا علاج کرنے کے قابل ہونے کی ضرورت ہوگی بجائے اس کے کہ وہ صرف صدماتی زخموں کا علاج کریں جن کی تعداد پہلے ہی کافی زیادہ ہے۔

امدادی کارکنوں نے کہا، ہنگامی انسانی معیارات کے مطابق پینے اور نہانے کا پانی کم از کم مطلوبہ سطحوں پر دستیاب ہونا ضروری ہے جبکہ خوراک اور ادویات کی زیادہ مقدار غزہ کی پٹی میں آنی چاہیے اور اسے پہنچانے کے لیے انسانی امدادی قافلوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔

حالیہ جنگ بندی کے دوران روزانہ تقریباً 200 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوتے تھے لیکن اس کے بعد سے یہ کم ہو کر 100 رہ گئے ہیں اور شدید لڑائی نے رفح سے آگے کسی قسم کی تقسیم کو زیادہ تر روک دیا ہے۔

رفح کے ابو یوسف النجار اسپتال کے ڈاکٹروں نے منگل کے روز رائٹرز کو بتایا کہ انہیں سینکڑوں ایسے مریضوں کا سامنا ہے جنہیں پرہجوم پناہ گاہوں میں خراب حالات کے پیش نظر انفیکشن اور متعدی بیماریوں کے علاج کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر جمال الحمس نے کہا، "رفح میں تمام متعدی بیماریاں پھیلیں گی۔"

ناصر ہسپتال کے پیڈیاٹرک ہیڈ الفارہ نے کہا جاری دشمنیوں نے بہت سے خاندانوں کے لیے بیمار بچوں کو علاج کے لیے بروقت لانا ناممکن بنا دیا ہے جو کسی بھی صورت میں وہ ادویات کی کمی کی وجہ سے مناسب طریقے سے فراہم نہیں کر سکتے تھے۔

انہوں نے کہا، "بچے (پینے کا) وہ پانی پی رہے ہیں جو انسانی استعمال کے لیے نا مناسب ہے۔ کوئی پھل نہیں، سبزیاں نہیں، اس لیے بچوں میں وٹامنز کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ غذائی قلت سے خون کی کمی ہے۔"

ڈاکٹروں اور امدادی کارکنوں نے کہا کہ بچوں کے فارمولہ دودھ کے ساتھ ملانے کے لیے صاف پانی کے بغیر چھوٹے بچے بھی بھوکے تھے۔ بین الاقوامی ایجنسیوں یا میڈیا کمپنیوں کے لیے کام کرنے والے نسبتاً خوشحال غزہ کے باشندوں نے بھی کہا ان کے بچے اب بیمار ہیں اور ان کے پاس کافی خوراک یا پانی نہیں ہے۔

ناصر ہسپتال کے قریب خیموں کے سمندر کے درمیان کھڑے محمود ابو شرخ اپنے تین بچوں کے ساتھ جنگ کے شروع میں شمالی غزہ سے فرار ہو گئے تھے جو تمام تین سال سے کم عمر ہیں۔ انہوں نے گرد آلود کیمپ میں اپنے اردگرد کی خراب صورتِ حال کی طرف اشارہ کیا۔

"بچے دو دن کے لیے ٹھیک ہو جاتے ہیں اور تیسرے دن وہ دوبارہ بیمار ہو جاتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں