فلسطین اسرائیل تنازع

مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل آج بھی مسترد، جنگ کے بعد بھی مسترد: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ میں اسرائیلی سفیر زیپی ہوٹو ویلی نے کھلے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ‘’ان کا ملک دو ریاستی حل کو غزہ میں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کسی صورت قبول نہیں کرے گا، بلکہ مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔‘‘

سکائے نیوز پر ایک انٹرویو کے دوران اسرائیلی سفیر سے پوچھا گیا تھا کہ خطے میں فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر امن کیسے قائم ہو سکتا ہے؟ جس کے جواب میں سفیر نے بتایا 'اسرائیل آج یہ جانتا ہے اور پوری دنیا کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ اپنی ریاست قائم نہیں کرنا چاہتے تھے۔ جس طرح آج بھی فلسطینی اسرائیلی ریاست کے بغیر اپنا نقشہ اور نعرہ اونچی آواز میں پیش کر رہے ہیں کہ وہ 'من النہر الی البحر' اپنی ریاست چاہتے ہیں ۔'

یہی ہمارا موقف ہے کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی سفیر نے سات اکتوبر کے حماس حملوں کی فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے مذمت نہ کیے جانے پر بھی سخت تنقید کی۔

اسرائیلی سفیر نے کہا 'کیا آپ کو یاد ہے، کبھی کسی ملک نے اپنے دشمن کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری بنائی ہو ؟ مجھے یاد نہیں کہ برطانیہ نے نازی جرمنی کی دوسری جنگ عظیم میں اس طرح کی کوئی مدد کی تھی۔'

مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ امریکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانیوں کی اس انداز میں کوئی مدد کی تھی اور ان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پرکچھ کرنا قبول کیا تھا۔

برطانیہ میں اسرائیلی سفیر ہوٹو ویلی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی یہ تجویز بھی مسترد کر دی کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی شہریوں کو بچانے کے لئے بلا امتیاز بمباری نہ کرے۔ بلکہ دیکھ بھال کرکے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں