فلسطین اسرائیل تنازع

امریکی یہودی گروپ کا غزہ میں جنگ بندی کے لیے آٹھ شہروں میں احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے ایک یہودی گروپ نے جمعرات کو امریکہ کے آٹھ شہروں میں حنوکاہ کی آٹھویں رات احتجاجی مظاہرے کیے اور واشنگٹن اور فلاڈیلفیا میں مصروف سڑکوں اور پلوں پر رش کے اوقات میں ٹریفک روک دی۔

واشنگٹن میں جیوش وائس فار پیس نامی گروپ نے کہا کہ تقریباً 90 مظاہرین نے امریکی دارالحکومت کے شمال مغربی حصے میں نیویارک ایونیو جانے والا اوور پاس بند کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ مظاہرے نے نیویارک ایونیو اور نارتھ کیپیٹل اسٹریٹ کا چوراہا بند کردیا اور لوگوں سے متبادل راستے استعمال کرنے کی اپیل کی۔

جیوش وائس فار پیس نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر کہا، "ہنوکاہ کی 8ویں رات، 8 شہر، 8 پل۔ ہم یہاں ہیں۔ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر بڑھتی ہوئی تعداد میں جمع ہو رہے ہیں یہ کہنے کے لیے کہ اب مزید (جنگ) نہیں۔"

بوسٹن، اٹلانٹا، شکاگو، منیاپولس، سیئٹل اور پورٹ لینڈ، اوریگون میں بھی مظاہرے ہوئے۔

رائٹرز کے ایک گواہ نے بتایا کہ فلاڈیلفیا میں تقریباً 200 مظاہرین نے مختصر طور پر ون-76 ہائی وے بلاک کر دی اور 30 سے زیادہ گرفتاریاں کی گئیں۔ مظاہرین نے علامات اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: "غزہ کو زندہ رہنے دو" اور "ہمارے نام پر نہیں"۔

اقوامِ متحدہ نے منگل کے روز غزہ کی پٹی میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جہاں اسرائیل نے حماس کے مزاحمت کاروں کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے۔

7 اکتوبر کو غزہ پر حکمرانی کرنے والے فلسطینی مزاحمت کار گروپ حماس نے سرحد پار سے یلغار کر دی اور 1,200 اسرائیلیوں کو ہلاک اور 240 یرغمالیوں کو قید کر لیا جس کے بعد سے غزہ جنگ امریکہ میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے حامی مظاہروں کا باعث بنی ہے۔

تب سے اسرائیلی افواج نے ساحلی انکلیو کا محاصرہ کر کے اس کا بڑا حصہ برباد کر دیا ہے جس میں فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق تقریباً 19,000 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

بدھ کے روز جنگ مخالف کارکنان نے صبح کے مصروف اوقات میں لاس اینجلس کی ایک پرہجوم شاہراہ پر ٹریفک روک دی اور اس دوران بائیڈن انتظامیہ کے کچھ عملے نے بھی جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں