باب المندب میں بحری جہازوں پر حملے، حوثیوں کا دو کشتیوں پر راکٹ حملے کا اعتراف

ہم دنیا بھر کی بندرگاہوں کو جانے والے کارگو جہازوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اسرائیل کو جاتے جہازوں کے علاوہ کسی بھی کارگو جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا: حوثی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے حوثی باغیوں کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ گروپ نے دو بحری جہازوں پر میزائل حملہ کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ہم نے ایم ایس سی الانیا اور ایم ایس سی پلاٹیوم تھری کو نشانہ بنایا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل جانے والی دو کشتیوں کو نیول میزائلوں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔ گروپ کا کہنا تھا کہ کشتی کے عملے کی جانب سے یمنی نیوی کی کالز موصول نہ کرنے اور انتباہی میسجز کو نظر انداز کرنے پر انہیں میزائلوں کا نشانہ بنایا۔

ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ہم دنیا بھر کی بندرگاہوں کو جانے والے کارگو جہازوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اسرائیل کو جاتے جہازوں کے علاوہ کسی بھی کارگو جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

برطانوی ادارے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اس سے قبل بتایا تھا کہ اسے ایک دھماکے کے نتیجے میں لگنے والی آگ کو کامیابی سے بجھانے کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا اور یہ آگ یمن کے شہر المخا سے تقریبا 30 بحری میل دور جنوب مغرب میں جمعہ کو ایک بحری جہاز میں لگی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ جہاز اور اس کا عملہ "اب کے لیے محفوظ ہیں۔"

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایک دوسرے کارگو بحری جہاز کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ عہدیدار کے مطابق اس بحری جہاز کی مدد کے لیے امریکی بحریہ کے جہاز میسن کو روانہ کر دیا گیا ہے۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کے حملوں کا مقصد غزہ کی پٹی کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی اور زمینی حملے کو ختم کرنا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعرات کو یمن میں حوثیوں کے زیر قبضہ علاقے سے آبنائے باب المندب کے شمال میں بین الاقوامی جہاز رانی کی راہداری کی طرف بیلسٹک میزائل داغے جانے کی نشاندہی کی تھی۔

امریکی کمانڈ نے کہا کہ حوثی میزائل حملے کے نتیجے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

بیان میں مزید کہا کہ "اس واقعے میں امریکی افواج نے مداخلت نہیں کی۔ امریکی فوج صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔"

Axios نیوز ویب سائٹ نے جمعرات کے روز اطلاع دی ہے کہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے جنوبی اسرائیل میں ایلات کی بندرگاہ پر بحری جہازوں کی آمد تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے۔

اس نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ نے متعدد چینلز کے ذریعے حوثیوں کو متنبہ کیا کہ وہ سمندر میں بحری جہازوں پر حملوں سے باز رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں