فلسطین اسرائیل تنازع

بھوکوں مرنے کے خطرے سے دوچار فلسطینی غزہ میں گدھے کا گوشت کھانے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں بے گھر فلسطینی روٹی کے نوالے کے لیے بھی بھیک مانگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اشیائے خوردو نوش کی انتہائی عدم دستیابی کے علاوہ اگر کہیں میسر ہیں تو ان کی قیمتیں پچاس گنا تک اوپر جا چکی ہیں۔ امدادی اداروں کے ٹرک غزہ کے بہت سے علاقوں تک پہنچ نہیں سکے ہیں۔

اس بھوک اور افلاس کے مارے ایک فلسطینی بے گھر خاندان کو اپنے گدھے کو ذبح کر کے کھانا پڑ گیا۔ اقوام متحدہ کے ادارے ' اوچا ' کا کہنا ہے ' مصری سرحد کی طرف رفح کے علاقے کے نزدیک بہت محدود امدادی سامان تقسیم کیا گیا ہے۔ لیکن یہ اس علاقے میں جمع گیارہ بارہ لاکھ بے گھر فلسطینیوں کے لیے نہ ہونے کے برابر ہے۔

جبکہ باقی سارے غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم بالعموم بند کی جا چکی ہے۔ ان علاقوں میں اسرائیلی فوج کی طرف سے امدادی ٹرکوں کی آمدورفت پر پابندیاں اور رکاوٹیں۔ جبکہ یہاں جنگ بھی جاری ہے۔

ایک 55 سالہ پریشان حال فلسطینی عبدالعزیز محمد نے کہا ' امداد ۔۔۔؟ کونسی امداد ؟ ہم اس امداد کے بارے میں بس سنتے ہی ہیں اسے دیکھا کبھی نہیں ہے۔ '

اس کا فون پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا ' ہم ایک بڑے گھر میں رہتے تھے، دو بڑے فریج ہر وقت کھانے کی اشیاء سے بھرے رہتے تھے ، اہل خانہ منرل واٹر پیتے تھے۔ لیکن اب ہم دوماہ میں روٹی کے چند ٹکڑوں کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں۔

اس فلسطینی نے مزید کہا ' یہ بھوک کی لڑائی ہے، اسرائیل نے پہلے ہمیں زبردستی ہمارے گھروں سے نکالا ہے، ہمارے گھر تباہ کیے، کاروبار تباہ کیے اور ہمیں جنوبی غزہ میں لاکر ہمارے اوپر پھر بم گرا رہا ہے۔ ہمیں بھوک سے بھی مار رہا ہے، پیاس سے بھی اور بارود سے بھی۔ '

اس صورت حال کے بارے میں منگل کے روز ' اونروا ' کے سربراہ نے کہا تھا ' بھوک سے نڈھال فلسطینی امدادی ٹرکوں کو راستوں میں روکنا چاہتے ہیں تاکہ جلدی جلدی اپنی بھوک مٹانے کے لیے کچھ کھا سکیں۔ '

یوسف فارس غزہ میں رہنے والے ایک صحافی ہیں۔ ان کا کہنا ہے لوگوں کے لیے کھانے پینے کی چیزیں خریدنا آسان نہیں، حتیٰ کہ آٹا بھی بہت مہنگا ہو چکا ہے۔ جنگ کی وجہ سے کھانے کی ہر چیز کی قیمت پچاس سے سو گنا تک اضافہ ہو چکا ہے۔

یوسف فارس کے مطابق وہ کل صبح ایک روٹی تلاش کے لیے نکلے، مگر انہیں ایک روٹی بھی نہ مل سکی۔ مارکیٹ میں صرف بچوں کی کینڈیاں اور کچھ پھلیاں تھیں۔ مگر ان کی قیمتیں بھی پچاس گنا زیادہ، میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے خاندان کے لیے اپنا گدھا ذ بح کر چکا تھا تاکہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو کچھ تو کھلا سکے۔'

اسرائیل نے تمام امدادی ٹرکوں کو رفح ہی کے راستے آنے کی اجازت دی ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلیوں نے نتزانہ راہداری کا بھی معائنہ کیا تھا، مگر اسے کھول نہیں، صرف رفح ہی کھولی گئی۔ جو بہت ناکافی اور تنگ راہداری ہے۔

بدھ کے روز سے اسرائیل نے کرم شالوم کی راہداری بھی کھولنے کا اشارہ دیا مگر کھولا نہیں ہے۔ بس ایک وعدہ کیا اور پھر لٹکا دیا۔اقوم متحدہ کے حکام کے مطابق بدھ کے روز 152 ٹرک امدادی سامان لائے ، یہ تعداد ایک روز پہلے آنے والے 100 ٹرکوں سے بہر حال زیادہ تھی۔ مگر کافی ہرگز نہیں تھی۔ غزہ کے بے گھر اور زیر محاصرہ فلسطینیوں کے لیے بہت ہی کم تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں