فرانس جنگ کے دوران اے ایف پی کے صحافیوں کو غزہ سے نکالنے کے لیے کام کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس نے جمعرات کے روز کہا اسے اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی بھاری تعداد پر تشویش ہے اور وہ ایجنسی فرانس پریس کے نامہ نگاروں کو غزہ کی پٹی سے باہر نکالنے پر زور دے رہا ہے۔

پیرس کی وزارتِ خارجہ کے نائب ترجمان کرسٹوف لیموئن نے کہا، "ہم اے ایف پی کے ملازمین کے حوالے سے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "یہ ایک "پیچیدہ آپریشن" ہے۔"

لیموئن نے مزید کہا، "اکتوبر سے ہم فلسطینی سرزمین پر موجود فرانسیسی شہریوں کے ساتھ ساتھ ان کے زیرِ کفالت افراد کو غزہ چھوڑنے کی اجازت دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔"

صحافیوں کے ایک گروپ نے جس میں اے ایف پی کے عملے کے افراد شامل ہیں، فرانسیسی روزنامے لی موندے میں ادارتی صفحے کے دوسری جانب ایک کالم شائع کیا جس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے فرانسیسی میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے فلسطینی صحافیوں کے انخلا کو محفوظ بنانے میں مدد کی درخواست کی گئی۔ اس اشاعت کے بعد یہ تبصرے سامنے آئے۔

غزہ کی رفح گذرگاہ مصر میں حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے بند ہے۔

اگرچہ حالیہ ہفتوں میں سرحدی گذرگاہ وقفے وقفے سے کھولی گئی ہے لیکن صرف ان لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے جن کے نام منظور شدہ فہرستوں میں تھے۔

صحافیوں کی تحریر میں کہا گیا، "جنگ شروع ہونے کے بعد سے غیر ملکی شہری غزہ سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن رفح گذرگاہ زمین پر فرانسیسی میڈیا کے لیے کام کرنے والے فلسطینی صحافیوں کے لیے بند کر دی گئی ہے۔"

میکرون سے اس مطالبے کے ساتھ کہ وہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ مل کر صحافیوں کو نکالنے میں مدد کریں، اس میں مزید کہا گیا، "امریکیوں نے یہ کیا ہے تو فرانس بھی کر سکتا ہے۔ فرانس کو یہ کرنا ہوگا۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔"

اپنے تبصروں میں لیموئن نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس نے غزہ کے ایک فرانسیسی ثقافتی ادارے میں کام کرنے والے فلسطینیوں کو علاقے سے باہر نکالنے کا بندوبست کیا ہے۔ 154 لوگوں میں سے انخلاء میں اس نے مدد کی ہے۔

لیموئن نے کہا، "فرانسیسی فرموں اور امدادی گروپوں میں متعلقہ فلسطینیوں اور عوامی شخصیات نے ہماری اس طرف توجہ دلائی۔ ہم اب بھی خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ حل تلاش کر رہے ہیں تاکہ انہیں غزہ کی پٹی سے باہر محفوظ مقام پر پہنچایا جا سکے۔"

پیرس نے تنازع کی کوریج کے دوران ہلاک شدہ صحافیوں کے کام کو بھی سراہا۔

لیموئن نے کہا، فرانس کو "اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعہ کے تناظر میں صحافیوں کی طرف سے ادا کی گئی بھاری قیمت پر تشویش ہے"۔

انہوں نے مزید کہا، "شہریوں کی حفاظت ہونی چاہیے اور بالخصوص صحافیوں کی۔ انہیں آزادانہ اور مکمل طور پر محفوظ طریقے سے اپنا کام کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔"

امریکہ میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک کم از کم 59 صحافی اور میڈیا ورکرز – 56 فلسطینی اور تین لبنانی – اسرائیل کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔

اے ایف پی کے ساتھ کام کرنے والے 40 کے قریب صحافی اور ان کے زیرِ کفالت افراد بدستور غزہ سے نکلنے کے منتظر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں