مغربی عراق میں امریکی عین الاسد بیس پر ڈرون حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی مسلح دھڑوں نے جمعرات کو اعلان کیا کہ انہوں نے مغربی عراق میں امریکی عین الاسد اڈے کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ غزہ میں ہمارے بھائیوں کے خلاف دشمن کے جرائم کے جواب میں کیا گیا ہے۔

عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کے مطابق نام نہاد "عراق میں اسلامی مزاحمت" سے تعلق رکھنے والے دھڑوں نے مزید کہا کہ ڈرونز نے "براہ راست اپنے اہداف کو نشانہ بنایا"۔

گذشتہ 7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر مسلسل اسرائیلی بمباری کے جواب میں عراقی دھڑوں نے حال ہی میں خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کئی بیانات جاری کیے ہیں۔ دھڑوں کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے براہ راست امریکی حمایت سے کیے جاتے ہیں۔

امریکی فوجی حکام کے اعلان کے مطابق اکتوبر کے وسط سے عراق اور شام میں تعینات امریکی افواج پر 61 سے زائد حملے ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں درجنوں امریکی فوجی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری عراقی مسلح دھڑوں نے ٹیلی گرام ایپلی کیشن پر بیانات کے ذریعے قبول کی تھی۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے خلاف حملوں کی تعدد میں اضافے کا تعلق اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ سے ہے۔

تقریباً 2500 امریکی فوجی عراق میں تعینات ہیں اور تقریباً 900 فوجی داعش کے خلاف جنگ کا حصہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں