امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو اسرائیل کے قریب بحیرۂ روم میں رہنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی حکام نے بتایا کہ وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے یو ایس ایس جیرالڈ آر۔ فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک دوسرے جنگی جہاز کو مزید کئی ہفتوں تک بحیرۂ روم میں رہنے کا حکم دیا ہے تاکہ اسرائیل کے قریب دو طیارہ بردار جہازوں کی موجودگی کو برقرار رکھا جائے کیونکہ اس کی حماس کے ساتھ جنگ (ممکنہ طور پر) طویل عرصہ جاری رہ سکتی ہے۔

یہ تیسرا موقع ہو گا کہ یو ایس ایس فورڈ کی تعیناتی میں توسیع کی گئی ہے جو غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے دوران خطے میں عدم استحکام کے بارے میں مسلسل خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکہ کے خطے میں دو طیارہ بردار بحری جہاز ہیں جو حالیہ برسوں میں ایک نایاب واقعہ ہے۔

متعدد امریکی حکام نے فورڈ اور یو ایس ایس نارمنڈی کروزر کے لیے اس ہفتے منظور شدہ طویل تعیناتیوں کی تصدیق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کی کیونکہ ان معلومات کو تاحال عام نہیں کیا گیا ہے۔ فورڈ کے حملہ آور گروپ کے دیگر جہازوں کی تعیناتی میں پہلے ہی توسیع کر دی گئی تھی۔

پینٹاگون نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے بعد خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا تاکہ ایران کو جنگ کو علاقائی تنازع میں تبدیل کرنے سے روکا جا سکے۔ اس کے بعد کے مہینوں میں عراق اور شام میں ایرانی حمایت یافتہ مزاحمت کاروں نے وہاں امریکی فوجی تنصیبات پر راکٹوں، ڈرونز اور میزائلوں سے باقاعدہ حملے کرنے کے لیے جنگ کا فائدہ اٹھایا ہے۔

اسی دوران بحیرۂ احمر میں امریکی جنگی جہازوں نے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے زیرِ قبضہ یمن کے علاقوں سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائل روک دیئے ہیں۔

انہوں نے بحری جہازوں کی طرف یک طرفہ حملہ کرنے والے ڈرون کو بھی مار گرایا ہے اور آبنائے باب المندب کے قریب حوثیوں کے مسلسل حملوں کی زد میں آنے والے تجارتی جہازوں کی مدد کے لیے پکار کا جواب دیا ہے۔

جمعہ تک خطے میں بحیرۂ عرب کے طول و عرض میں اور خلیج تک 19 امریکی جنگی جہاز موجود ہیں، جن میں سات مشرقی بحیرۂ روم میں اور 12 مزید بحیرۂ احمر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

حماس کے حملے کے ایک دن بعد جس سے جنگ شروع ہوئی، آسٹن نے فورڈ اور اس کے حملہ آور گروپ کو 8 اکتوبر کو مشرقی بحیرۂ روم کی طرف جانے کا حکم دیا۔

فورڈ -بحریہ کا جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز - کو خطے میں رکھنے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے جمعرات کو کہا کہ حماس کو تباہ کرنے میں مہینوں لگیں گے جو طویل جنگ کی پیش گوئی کرتا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے غزہ میں بڑی جنگ کو ختم کرنے کے بارے میں ٹائم ٹیبل پر بات کرنے کے لیے اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کی لیکن انھوں نے حماس کو کچلنے تک لڑائی جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا۔

فورڈ کے تقریباً 5000 اہلکار پینٹاگون کے اس فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا وہ چھٹیوں کے لیے گھر جائیں گے یا نہیں۔ یہ جہاز امریکی یورپی کمان میں تعیناتی کے لیے مئی کے اوائل میں ورجینیا کے نارفولک سے روانہ ہوا اور اپنے اصل شیڈول کے تحت یہ نومبر کے اوائل تک گھر پہنچ چکا ہوتا۔

اصل منصوبہ طیارہ بردار بحری جہاز کے حملہ آور گروپ کے اس خطے میں فورڈ کی جگہ لینے کا تھا۔ لیکن سبرینا سنگھ نے 17 اکتوبر کو پینٹاگون کی ایک بریفنگ میں کہا کہ آسٹن نے فورڈ کی تعیناتی میں توسیع کا فیصلہ کیا تھا اور آئزن ہاور اور فورڈ دونوں کو جنوبی یورپ سے شرقِ اوسط تک پانیوں کا احاطہ کرنا تھا۔

امریکی فوجی کمانڈروں نے طویل عرصے سے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے مؤثر ہونے کی وکالت کی ہے بشمول ایران اور اس کے بحری جہازوں کے حملوں، اغوا اور دیگر جارحانہ رویے کے خلاف جن میں حوثیوں کے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے بھی شامل ہیں۔

حکام نے کہا کہ فورڈ کو مزید کئی ہفتوں تک وہاں رکھنے کا منصوبہ ہے۔

آئزن ہاور خلیج عمان میں ہے اور بحریہ کے ایک کروزر یو ایس ایس فلپائن سی کے ساتھ شرقِ اوسط میں گشت کرتا رہا ہے۔ اور تین جنگی بحری جہاز - یو ایس ایس کارنی، یو ایس ایس سٹیتھم اور یو ایس ایس میسن - تمام بحری تباہ کن جہاز - حوثیوں کے حملوں کو روکنے اور جواب دینے میں مدد کے لیے روزانہ باب المندب سے گذر رہے ہیں۔

دیگر بحری جہاز جو فورڈ کے اسٹرائیک گروپ کا حصہ ہیں، ان میں تباہ کن یو ایس ایس تھامس ہڈنر، یو ایس ایس رامیج، یو ایس ایس کارنی، اور یو ایس ایس روزویلٹ شامل ہیں۔

اگرچہ امریکہ نے عراق اور افغانستان کی جنگوں کے عروج کے دوران شرقِ اوسط میں دو طیارہ بردار بحری جہازوں کو باقاعدگی سے برقرار رکھا البتہ حالیہ برسوں میں اس نے اپنی توجہ اور بحری موجودگی کا رخ ایشیا پیسیفک کی طرف موڑنے کی کوشش کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں