تونس میں موساد کے ہاتھوں فتح کے رہ نما کے قتل کا واقعہ جس نے دنیا کوہلا کر رکھ دیاتھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دوسرے ممالک کی سرزمین پر اپنے دشمنوں کو ختم کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کی وجہ سے اسرائیل پوری دنیا میں شہرت رکھتا ہے۔

سنہ 1988ء میں افریقی عرب ملک تونس میں اسرائیلی خفیہ اداروں نے تحریک فتح کے ایک سرکردہ رہ نما خلیل الوزیر المعروف ابو جہاد کو ایک ٹارگٹ کلنگ کارروائی کا نشانہ بنایا جس میں وہ اپنے محافظوں سمیت مارے گئے تھے۔

خلیل الوزیر کا کیریئر

نہ 1935ء میں فلسطین کے علاقے رملہ میں پیدا ہونے والے خلیل الوزیر نے مصر کے اسکندریہ میں تعلیم حاصل کی۔ وہ جوانی ہی میں فتح تحریک میں شامل ہونے کے بعد اس کی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں میں شامل ہوگئے تھے۔ انہوں نے 1960ء کی دہائی میں اہم سیاسی کردار ادا کرنے سے پہلے 1950 کی دہائی کے آخر میں کئی خلیجی ممالک میں تدریسی ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔ تحریک فتح میں سرگرمیوں کے دوران انہوں نے کئی ممالک کا دورہ کیا جن میں چین بھی شامل تھا۔

سنہ 1960ء کی دہائی کے وسط میں خلیل الوزیر فتح تحریک کے طوفان ڈویژن میں ایک معاون بن گئے اور اسرائیلی اہداف کے خلاف کئی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں حصہ لیا۔ سنہ 1978ء میں تل ابیب کے قریب ایک اسرائیلی بس پر حملہ ہوا جس میں 39 افراد ہلاک ہوئے۔ لبنان کی خانہ جنگی کے دوران 1982 میں بیروت کے اسرائیلی محاصرے کے دوران خلیل الوزیر ان فلسطینی گروپوں میں شامل تھے جن سے لبنانی سرزمین چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر وہ 1980 کی دہائی کے وسط میں تونس میں آباد ہونے سے پہلے اردن چلے گئے۔

خلیل الوزیر کا قتل

پہلی تحریک انتفاضہ شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے خلیل الوزیر پر تشدد اور اس کے خلاف گوریلا کارروائیوں کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔ مارچ اور اپریل 1988 کے درمیان اسرائیلی سکیورٹی کمیٹی کے اجلاسوں کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم یتزاک شامیر نے تونس کی سرزمین کے اندر خلیل الوزیر کے خلاف قتل کا منصوبہ تیار کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ اسرائیلی موساد کے اہلکاروں نے تونس میں ابو جہاد کے گھر اور اس کے آس پاس کے مقامات کی نگرانی کرنے اور اس کے فون نمبر اور نقل و حرکت کا تعین کرنے کا منصوبہ بنایا۔

اس کے بارے میں معلومات کا ایک مجموعہ اکٹھی کرنے کے بعد موساد کے اہلکاروں نے اس قتل کو انجام دینے کے لیے تیونس کے ساحلوں پر ایک خصوصی کمانڈو ٹیم کو اتاری ۔ اس دوران ایہود باراک کو اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

14 اپریل 1988ء کو چھ اسرائیلی سیاحوں کا روپ دھار کر یورپ سے آئے موساد ایجنٹ اپنے ساتھ تین کاریں کرائے پر لے کر تونس پہنچے۔ وہاں انہیں ابو جہاد کو ایک کمانڈر کارروائی میں ہلاک کرنا تھا۔

اگلے دن ایک اسرائیلی بحری فوج خفیہ طور پر تونس کے ساحل کے قریب پہنچی اور ایک کمانڈو یونٹ ربڑ کی کشتیوں پر سوار ہو کر تونس کے ساحلوں کی طرف روانہ ہوا۔

اسرائیلی اہلکار یوآو گیلنٹ نے ابو جہاد کو قتل کرنے والے اسکواڈ کے مشن کی نگرانی کی۔ دوسری جانب اسرائیل نے آپریشن کی کامیابی کو یقینی بنانے اور تونس کی پولیس کے ذریعے اسرائیلی ارکان کا سراغ لگانے کی صورت میں فوری مداخلت کرنے کے لیے اپنے متعدد جنگی طیاروں کو اسٹینڈ بائی پر رکھا۔

کاروں میں سوار کئی کمانڈو ارکان سویلین کپڑوں میں ملبوس تھے وہ ابو جہاد کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ اپنے مقصد تک پہنچنے پر متعدد عناصر نے خلیل الوزیر کے ایک محافظ کو اس وقت قتل کر دیا جب وہ گھر کے سامنے اپنی گاڑی میں موجود تھے۔ بعد میں، متعدد اسرائیلی عناصر تہہ خانے کی طرف بڑھے، جہاں انہوں نے ابوجہاد کے گھر پر دھاوا بولنے سے پہلے ایک دوسرے گارڈ کو ہلاک کر دیا اور اسے تقریباً 52 گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

چند منٹوں تک جاری رہنے والے اس مشن کی کامیابی کے ساتھ ہی اسرائیلی دستہ اسرائیل واپس آنے سے پہلے تونس کے ساحلوں کی طرف چلا گیا۔

اسرائیلی آپریشن نے عدم اطمینان کی ایک بین الاقوامی لہر کو جنم دیا۔ امریکا نے اسے سیاسی قتل قرار دیا۔ سلامتی کونسل نے اسرائیل کا نام لیے بغیر تونس کی سرحد کی خلاف ورزی اور اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے عمل کی مذمت کی قرارداد منظور کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں