غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے بارے حماس کے اندرونی اختلافات ڈیل کی راہ میں رکاوٹ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آج ہفتے کو امریکی Axios نیوز ویب سائٹ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ قطری وزیر خارجہ الشیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے اسرائیلی انٹیلی جنس سروس (موساد) کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا سے ملاقات کی، جس میں حماس کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر بات چیت کی گئی۔

ویب سائٹ نے بتایا کہ دسمبر کے شروع میں ایک ہفتہ طویل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے یہ ملاقات یورپ میں منعقد ہوئی ہے۔

ویب سائٹ نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ یہ مذاکرات "صرف آغاز" تھے اور یہ عمل "طویل، مشکل اور پیچیدہ" ہوگا۔

ذرائع کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز اور مصری انٹیلی جنس چیف عباس کامل کو اس ملاقات سے آگاہ کیا گیا اور وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوششیں دوبارہ شروع کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

اسرائیل اور قطری حکام نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ناروے میں ہفتے کے روز ایک ملاقات طے کی گئی تھی ۔ یہ ملاقات یرغمالیوں کے لیے نئی کوششوں کے سلسلے میں طے ہوئی تھی۔ اس امر کا اظہار وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔

جو سات اکتوبر سے حماس کی قید میں ہیں اور ان میں سے تین کو اسرائیلی فوج نے اپنی ہی گولیوں سے ہلاک کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ایک سو سے زائد یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہوچکی ہے مگر وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں ہوئی۔ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد یہ سلسلہ رک چکا ہے۔

اسرائیل اور قطر کے درمیان اس سلسلے میں نئی کوششوں کے لیے قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی اور اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ڈائریکٹر کے درمیان ناروے میں ہورہی ہے۔ امکان ہے کہ اس ملاقات میں مصری حکام بھی شریک ہوں گے۔

صورت حال سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے نئے آغاز میں حماس کے اندر معاہدے کی شرائط کے بارے میں اختلاف رائے بھی ہے۔

وال سٹریٹ کے مطابق یہ مذاکراتی کوشش اس افسوسناک واقعے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں اسرائیلی فوجی غزہ میں اپنے یرغمالیوں کی رہائی کی کوشش کرتے کرتے انہیں اپنے ہی ہاتھوں ہلاک کر بیٹھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں