غزہ کی پٹی میں سرنگوں میں پانی پمپ کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیلی فوج کے سربراہ نے غزہ میں سرنگوں میں پانی پمپ کرنے کو ایک "اچھا اور موثر" تصور قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زیر زمین حماس کے سرنگ نیٹ ورک کو ختم کرنے اور حماس کی عسکری قیادت کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم ماہرین ان کی اس رائے سے متفق نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سرنگوں کو پانی میں ڈبونا ماحولیاتی تباہی کا موجب بن سکتا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں حماس کی طرف سے کھودی گئی کئی وسیع سرنگوں کے نیٹ ورک میں سمندری پانی کو پمپ کرنے کی جانچ شروع کر دی ہے۔

حماس کے عسکری بازو القسام بریگیڈ کے جنگجو اسرائیلی فورسز پر ان سرنگوں سے حملہ کرتے ہیں جہاں وہ پناہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسرائیلی قیدیوں کو بھی انہی سرنگوں میں یرغمال بنا رکھا ہے۔

سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے نتیجے میں 1,139 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد اسرائیل نے حماس کو ختم کرنے کا عزم کیا تھا۔

حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر کارروائی کے نتیجے میں 18 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

"غزہ میٹرو"

غزہ میں حماس کے سرنگوں کے نیٹ ورک کو اسرائیلی فوج "غزہ میٹرو" کہتی ہے۔ یہ نیٹ ورک حماس نے سنہ 2007ء میں حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد تیار کیا تھا۔

غزہ اور بیرونی دنیا کے درمیان افراد سامان، ہتھیار اور گولہ بارود کی نقل و حمل کے لیے جزیرہ نما سینا کے نیچے سرنگیں کھودی گئی تھیں۔

2014ء میں اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ کے بعد حماس نے اس نیٹ ورک کو وسعت دی جہاں سے اس کے جنگجو اسرائیل کی سرزمین پر، پورے غزہ میں راکٹ داغنے کے لیے نکلتے ہیں۔

17 اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ’یو ایس ‘ ملٹری اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ کے ماڈرن وار انسٹی ٹیوٹ نے 500 کلومیٹر سے زیادہ پھیلی ہوئی 1,300 سرنگوں کی موجودگی کا اشارہ دیا تھا۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے سرنگوں کی کیا حالت ہے؟

امریکی تھنک ٹینک RAND کارپوریشن کے فوجی ماہر رافیل کوہن نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ 27 اکتوبرکوغزہ کی پٹی میں زمینی دراندازی کے بعد سے اسرائیلی فوج نے محسوس کیا ہے کہ "سرنگ کا نیٹ ورک اس کی سوچ سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے"۔

اسرائیلی فوج نے دسمبر کے اوائل میں اشارہ کیا تھا کہ اسے 800 سے زیادہ سرنگوں کے سوراخ ملے ہیں، جن میں سے 500 تباہ ہو چکی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "سرنگوں کے دھانے شہری علاقوں میں واقع تھے، اور ان میں سے ایک بڑی تعداد اسکولوں، نرسریوں، مساجد اور کھیل کے میدانوں کے قریب یا اندر تھی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں کچھ سرنگوں کے داخلی راستوں پر دھماکہ خیز بھی مواد ملا۔

قیدی

اسرائیلی فوجیوں کے لیے ایک جان لیوا جال ہونے کے علاوہ دسمبر کے اوائل میں ختم ہونے والی ایک ہفتہ طویل جنگ بندی کے دوران 105 قیدیوں میں سے بہت سے لوگوں نے کہا کہ انہیں سرنگوں میں رکھا گیا تھا اور انہیں زمینی لڑائی اور بمباری کے دوران ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا۔

نومبر کے آخر میں اسرائیلی فوج نے الشفاء میڈیکل کمپلیکس پر دھاوا بولا اعلان کیا کہ اسے اس کے تہہ خانے میں ایک سرنگ ملی ہے جسے "دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے"۔ نگرانی کے کیمروں سے ویڈیو کلپس نشر کیے جو ثابت کرتے ہیں اس سرنگ میں دو قیدیوں کو رکھا گیا تھا اورا نہیں طبی امداد دی گئی تھی۔

فوج کے ترجمان ڈینیل ہاگری نے بھی منگل کواعلان کیا کہ دو قیدیوں کی لاشیں غزہ میں "زیر زمین کے ڈھانچے سے" ملی ہیں۔

سرنگوں کی تباہی

اسرائیلی فوج اس بارے میں خاموش ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے اور باقی قیدیوں کی واپسی کے بعد سرنگوں کو کس طرح تباہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اسرائیلی پریس ذرائع کے مطابق چھوٹی ساحلی پٹی سے ملحقہ مقامات میں موجود سرنگوں کو سمندری پانی سے تباہ کرنے کا پلان ہے۔ کے اے این 11 پبلک چینل نے جمعرات کو کہا کہ ٹیسٹ شروع ہو چکے ہیں اور یہ حربہ موثر ثابت ہو رہا ہے۔ آرمی چیف ہرزی ہیلیوی نے کہا کہ یہ ایک اچھا خیال ہے۔

دوسری طرف حماس کے سیاسی بیورو کے ایک رکن اسامہ حمدان نے جمعرات کو لبنان میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "یہ سرنگیں اچھی تربیت یافتہ اور تعلیم یافتہ انجینیروں نے بنائی تھیں۔ انہوں نے ہر قسم کے ممکنہ حملوں کو مدنظر رکھا جن میں پانی کی ممکنہ پمجنگ کا امکان بھی شامل تھا۔

ماحولیاتی خطرہ

ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی کھارے پانی سے زیر زمین سرنگوں کو پمپ کرنے سے زیر زمین مٹی کی کھارے پانی سے آلودگی کا خدشہ ظاہر کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک تباہ کن اقدام ہوگا۔ غزہ کی آبادی کے پینے کے میٹھے پانی کو متاثر کرنے کے ساتھ فصلوں کے لیے بھی مضر ثابت ہوگا۔

غزہ کی پٹی کی چوڑائی چھ سے بارہ کلومیٹر کے درمیان ہے، اور اس کے زیر زمین پانی کا نمکین پن پہلے ہی زیادہ ہے۔ سمندر اوراس کی سطح میں اضافے کی وجہ سے کھارے پن میں ں اضافہ ہو رہا ہے۔

النقب کی بین گوریون یونیورسٹی میں زکربرگ انسٹی ٹیوٹ فار واٹر ریسرچ کے پروفیسر ایلون اڈار نے کہا کہ اس میں سیوریج نیٹ ورک میں دائمی عدم توازن اور غزہ میں "زیادہ زراعت کے علاقوں میں کیڑے مار ادویات اور جڑی بوٹی مار ادویات کا بے قابو استعمال" شامل ہیں۔

ماہر نے زور دیا کہ ان تینوں عوامل کے غزہ میں پانی کے معیار کے لیے بہت سنگین نتائج برآمد ہوں گے"۔

فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے رابطہ کار لین ہیسٹنگز نے جمعرات کو متنبہ کیا کہ یہ "آئندہ نسلوں کو متاثر کر سکتا ہے"۔ْ

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں