جنوبی لبنان کے ناقورہ شہر پر اسرائیل کا بھاری ہتھیاروں سے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان اسرائیل سرحد پر کشیدگی جاری ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے الناقورہ کے علاقے پر گولہ باری کی ہے۔

لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتوار کی صبح اسرائیلی فوج نے العلام اور ناقورہ پہاڑوں میں واقع شہر ناقورہ کے مضافات میں بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کی۔

ایجنسی نے مزید کہا کہ اسرائیلی بھاری توپ خانے نے ہفتے کی شام عیتا الشعب قصبے کے مضافات میں بمباری کی۔

اسرائیلی جاسوس طیارے کل رات بھر اور اتوار کی صبح تک مغربی اور وسطی سیکٹروں کے دیہاتوں پر پرواز کرتے رہے۔ صور شہر کے مضافات تک اسرائیلی طیاروں پر اسرائیلی جاسوسی طیاروں نے پروازیں کیں جب کہ عتیا کے ملحقہ علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

درایں اثناء العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ لبنان کی سرحد پر دو اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر ٹینک شکن میزائل داغے گئے۔

7 اکتوبر سے

قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر کشیدگی برقرار ہے، اس کے علاوہ اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان تقریباً روزانہ تصادم اور جھڑپیں ہوتی ہیں۔

تاہم یہ تصادم معمول کی سرحدی جھڑپوں کی حدود سے آگے نہیں بڑھا۔

لیکن باہمی بمباری نے اسرائیل کو احتیاط کے طور پر سرحد کے قریب شمالی دیہاتوں اور قصبوں کے دسیوں ہزار مکینوں کو نکلنے پرمجبور کیا ہے۔

بیروت کو دوسرے غزہ میں تبدیل کرنے کی دھمکی

اسرائیلی حکام نے بار بار دھمکی دی کہ اگر حزب اللہ نے اپنی بمباری جاری رکھی تو وہ بیروت کا حشر غزہ سے بھی بدتر کریں گے۔ اسرائیل لبنانی حکومت کو سرحدوں پر کنٹرول کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

جب کہ نگراں حکومت اور وزارت خارجہ دونوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ لبنان جنگ نہیں چاہتا، نہ اس کا خواہاں ہے اور نہ ہی اسے برداشت کرتا ہے۔ جنوبی سرحد پر جنگ اور کشیدگی میں اضافے کا فیصلہ اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں