فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ کے 73 روز، غزہ میں بے گھر ہونے والوں کی مشکلات میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ کے تنازعے کو ایک وجودی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ اور اخراجات کے باوجود یہ جنگ لڑی جانی چاہیے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ غیر فوجی علاقہ بنے اور اس کی سکیورٹی اسرائیل کے ہاتھ میں ہونی اہیے۔

غزہ کی پٹی پر 73ویں روز بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ غزہ کے شمال، جنوب اور وسطی علاقوں میں بمباری جاری ہے جب کہ دوسری طرف فلسطینیوں میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

خان یونس کے رہائشی چالیس سالہ محمد نامی ایک فلسطینی شہری، جو اسرائیل کے انخلاء کے احکامات کے بعد جنوبی شہر رفح منتقل ہوا نے کہا کہ"ہم مکمل جنگ بندی اور جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم انسانی بنیادوں ہر عارضی جنگ بندی نہیں چاہتے۔

"پانی اور خوراک موت سے کم اہم ہیں

غزہ کی سمیرہ جوچار بچوں کی ماں ہے اور مصر کی سرحد سے متصل رفح میں ایک عارضی خیمے میں ہے نے بگڑتے ہوئے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس نے کہا کہ "ہر روز حالات پہلے سے بدتر ہوتے جاتے ہیں۔ خوراک کم اور پانی بدتر ہے لیکن موت اور تباہی مسلسل بڑھ رہی ہے"۔

45 سالہ احمد جو الیکٹریشن ہے اور چھ بچوں کا باپ ہے۔ اس نے وسطی غزہ کے علاقے میں ایک پناہ گاہ سے بتایا کہ پٹی "رات کے وقت آگ کے گولے میں بدل جاتی ہے۔ ہم نے دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں سنی ہیں۔ تمام سمتوں ہم پر فائرنگ ہو رہی تھی‘‘۔

غزہ کے بے گھر کیمپوں کے بچے
غزہ کے بے گھر کیمپوں کے بچے

اسرائیل جنوبی غزہ کی پٹی میں کئی ہفتوں سے اپنی کارروائیاں تیز کر رہا ہے، خاص طور پر خان یونس میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ خان یونس میں حماس کا مرکزی کمانڈ سینٹر اور تحریک کی قیادت کا مرکز ہے۔

دوسری طرف صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے تل ابیب پر زور دیا کہ وہ غزہ میں فوجی مہم کا دائرہ کم کرے اور حماس کے رہ نماؤں کو زیادہ درست طریقے سے نشانہ بنانے والی کارروائیوں کی طرف بڑھے۔

اسرائیلی حکام نے کھلے عام اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جب تک وہ حماس کو ختم کرنے کا اپنا ہدف حاصل نہیں کر لیتے وہ جنگ جاری رکھیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں