غزہ پربمباری جاری،علاقے میں انٹرنیٹ اور فون سروس مسلسل چوتھے روز بھی معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اتوار کو اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر مسلسل کئی مقامات پرنئے فضائی حملے کیے، جب کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے کہا ہے کہ وہ حماس کے خلاف "فوجی دباؤ" کی پالیسی جاری رکھیں گے۔

درایں اثناء غزہ میں مسلسل چوتھے روز مواصلاتی سروسز بند ہے۔ جنگ کے دوران مواصلاتی رابطوں کی یہ سب سے طویل بندش ہے۔ مواصلاتی رابطوں کا تعطل پر امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ پٹی میں امدادی کارروائیوں کا عمل پیچیدہ ہو رہا ہے۔ شہریوں میں جنگی ہلاکتوں کی نشاندہی کرنا مزید مشکل بنا دیتا ہے۔

اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری نے محصور ساحلی پٹی کے وسط میں البریج کیمپ اور جحر الدیک کو نشانہ بنایا۔

فلسطینی میڈیا نے بتایا کہ آج صبح کے وقت وسطی غزہ کے نصیرات کیمپ میں الزیان خاندان کے گھر پر اسرائیلی بمباری میں 12 افراد جان سے گئے۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق اس سے قبل آج غزہ کے شمال میں واقع جبالیہ قصبے میں کئی گھروں پر اسرائیلی فضائی حملے کے دوران 35 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔

غزہ کی پٹی پر دوبارہ بمباری

دوسری جانب العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نےغزہ کے اطراف پربستیوں پر دوبارہ راکٹ باری کی اطلاع دی ہے اورغزہ کےاطراف پر واقع صوفہ اور حلیت کے مقامات پر سائرن بجنے لگے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا کہ غزہ کی پٹی میں لڑائی کے دوران مزید دو اسرائیلی فوجی مارے گئے۔

فوج کا کہنا ہے کہ 27 اکتوبر کوغزہ پراسرائیل کے زمینی حملے کے بعد سے اب تک 121 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل نے غزہ بھرمیں حماس کے اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق فلسطینی تحریک کی طرف سے گذشتہ 7 اکتوبر کو شروع کیے گئے ایک حملے کے بعد غزہ میں ابھی تک قید تقریباً 129 یرغمالیوں کو واپس کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب غزہ میں وزارت صحت نے جمعرات کو کہا کہ جنگ میں 18,700 سے زائد فلسطینی مارے چکے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں