غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، یرغمالی رہا کرانے کے لیے نیتن یاہو بمباری بڑھانے کے حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل نے اتوار کے روز غزہ پر مزید بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ جنگ بندی کے لیے دباؤ میں اضافے کے باوجود اسرائیلی حکومت نےپہلے اندرونی دباؤ کا توڑ کرنے کے لیے بمباری میں کمی کی بجائے اضافہ کرنے کی حکمت عملی بروئے کار رکھی ہے۔

اب تک اسرائیل کی غزہ میں بمباری کے نتیجے میں 19000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جن میں غالب اکثریت فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔ اسرائیل کی یہ بھی کوشش ہے کہ اس سے پہلے کہ اسے عالمی دباؤ کے سبب جنگ بندی کی طرف جانا پڑے وہ غزہ کو مزید تباہی اور فلسطینیوں کو مزید ہلاکتوں سے دوچار کرنے میں تیزی کرے۔

اسرائیل پر اندر سے جنگ بندی کے لیے دباؤ تین یرغمالیوں کی اسرائیلی فوج کے اپنے ہاتھوں سے بہیمانہ ہلاکت کے بعد پہلے سے بڑھ گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد تل ابیب میں بھی احتجاج کیا گیا ہےاور اسرائیلیوں نے بھی جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک یرغمالی کی بیٹی ناؤم پری جو احتجاجی مظاہرے میں شریک تھیں انہوں نے مطالبہ کیا ' ہمارے بارے میں بھی کچھ غور کیا جائے اور مذاکرات کے نئے منصوبے کے ساتھ آگے برھا جائے۔'

واضح رہے اس وقت بھی ایک سو تیس سے زائد یرغمالی حماس کی قید میں ہیں۔ نیتن یاہو جن کے ساتھ یرغمالیوں کی پچھلی ملاقات بڑی حوصہ شکن رہی تھی ۔ تین یرغمالیوں کے اسرائیلی فوجیوں سے ہلاکت پر رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہ ' میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ اس واقعے نے پوری قوم کا دل توڑ دیا ہے۔ تمام تر دکھ کے ساتھ میں واضح کرنا چاہتا ہوں حماس پر فوجی دباؤ بڑھانا ضروری ہے۔'

یاہو کا کہنا تھا ' حماس کے خلاف یہ دباؤ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی ضروری ہے اور دشمن پر فتح کے لیے بھی لازمی ہے۔ اسی روز انہوں نے قطر کے ساتھ سفارتیسطح پر نئے سرے سے مذاکارت کی تصدیق بھی کی اور قطر کے حوالے سے تنقید کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا قطر کے بارے میں آپ مناسب وقت پر سنیں گے لیکن فی الحال ہمیں اپنے یرغمالی رہا کرانے کی کوشش کرنا ہے۔'

اگلے ہی روز غزہ کے علاقے دیر البلح میں اسرائیلی بمباری سے کم از کم 12 فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ عینی شاہدوں کے مطابق اسرائیل جنگی طیاروں نے اور توپ خانے کے ذریعے جنوبی میونسپلٹی بنی سہیلہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ بنی سہیلہ کا علاقہ خان یونس کے مشرق میں ہے۔

دوسری جانب حماس نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اگر اس کے لوگوں پر جارحیت جاری رہے گی تو قیدیوں کی رہائی اور تبادلے کے لیے کوئی بات چیت نہیں ہو سکے گی۔

ادھر امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اسرائیل کے دورے پر پہنچنے کے ساتھ ساتھ قطر اور بحرین کے دوروں پر جانے کی بھی اطلاع دی ہے تاکہ خطے میں سلامتی و استحکام کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں