لبنان کے ساتھ جنگ سے بچنے کا موقع ضائع ہوا تو ہم کارروائی کریں گے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے شمالی محاذ پر موجودہ کشیدگی کو ایک دھماکے کی شکل میں پھٹنے کے مسلسل بین الاقوامی خدشات کے جلو میں لبنانی حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان سرحد پر جھڑپیں جاری ہیں۔ تل ابیب نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی کشیدگی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

اتوار کو ملک کا دورہ کرنے والی اپنی فرانسیسی ہم منصب کیتھرین کولونا کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے کہا کہ "لبنان کے خلاف جنگ سے بچنے کا موقع موجود ہے۔ البتہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو ہم کارروائی پر مجبور ہوں گے"۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک کسی بھی کشیدگی کے پیش نظر کارروائی کرے گا۔

"ہم تنہا لڑیں گے"

کوہن نے کہا کہ "اگر بین الاقوامی برادری حزب اللہ کو سرحد سے ہٹانے میں ناکام رہی تو ہم اکیلے ہی کارروائی کریں گے"۔

غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے بارے میں ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جنگ بندی غلط ہوگی اور ایسا حماس کو فائدہ پہنچائےگا‘‘۔

دوسری جانب پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرانسیسی وزیرہ نے غزہ میں "فوری اور پائیدار نئی جنگ بندی" کا مطالبہ کیا۔

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان سرحدی کشیدگی کو وسیع کرنے اور ایک جامع جنگ سے بچنے کے لیے بڑھتے ہوئے سفارتی دباؤ کے باوجود پیرس شمالی محاذ پر ایک نئی جنگ شروع ہونے سے بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

کولونا نے اس معاملے پر بات کرنے کے لیے کل ہفتے کے روز لبنان کا دورہ کرنا تھا، لیکن ان کے جہاز میں فنی خرابی کی وجہ سے ان کا بیروت کا دورہ پیر تک ملتوی کر دیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سات اکتوبر سے لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر تقریباً روزانہ ہی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جنوبی لبنان میں ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں اب تک 129 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں حزب اللہ کے 91 جنگجو اور 17 عام شہری شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں