فلسطین اسرائیل تنازع

یرغمالیوں کے خاندانوں کا صبر ختم، اسرائیل سے جنگ بندی اور مذاکرات کے مطالبے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تین اسرائیلی یرغمالیوں کی اپنی ہی فوج کے ہاتھوں بہیمانہ ہلاکت کے واقعے نے یرغمالیوں کے خاندانوں میں پریشانی کو سنگین تر کر دیا ہے۔ ہفتے کے روز یرغمالی افراد کے اہل خانہ اور عزیزوں نے تل ابیب میں مظاہرے کیے اور اسرائیلی حکومت سے مطالبے کیے کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی کر کے مذاکرات کیے جائیں تاکہ ہمارے پیارے واپس آ سکیں۔

اسرائیل کے تین یرغمالی جمعہ کے روز اس وقت اپنی فوج کے ہاتھوں وحشیانہ انداز میں مارے گئے، جب انہوں نے اپنے ہاتھوں میں عبرانی زبان میں لکھے سفید پرچم اٹھا رکھےتھے۔ وہ امن اور مدد مانگتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ وہ لڑائی کرنے والے نہیں ہیں۔ مگر اسرائیلی فوج نے خطرناک دشمن سمجھتے ہوئے فوجی بیان کے مطابق ' غلطی سے قتل ' کر دیا۔

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ایک ہی واقعے میں تین اسرائیلی یرغمالیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کے اندر ایک نئے احتجاج نے جنم لیا ہے۔ یرغمالیوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی زندگیوں کے بارے میں پہلے سے زیادہ خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ وہ خوفزدہ ہیں کہ جنگ اسی طرح جاری رہی تو اگلا یرغمالی جو اسی طریقے سے مارا جائے گا ان کا بیٹا، بھائی بھی ہو سکتا ہے۔

یرغمالیوں کی فوری واپسی کے لیے اسرائیلی حکومت سے جنگ بندی کر کے حماس سے مذاکرات کا مطالبہ کرنے والے یہ غمزدہ اسرائیلی خاندان چلا چلا کر کہہ رہے تھے ' ہم صرف لاشیں وصول کر رہے ہیں۔' ھیم پری نامی یرغمالی کی بیٹی ناؤم پری نے کہا ' ہم چاہتے ہیں کہ آپ جنگ بند کریں اور مذاکرات شروع کریں۔ ہم کیوں لاشیں وصول کرتے رہیں۔'

انہی مظاہرین میں ایک روبی چین تھے ، یہ ایک 19 سالہ یرغمالی فوجی کے والد ہیں۔ روبی چین نے کہا' ہم ایسا محسوس کرتے ہیں کہ ہم کسی گیم کے کردار ہیں، کہ ایک کے بعد ایک کر کے موت کا نشانہ بنتے رہیں گے۔'

روبی نے اسرائیلی حکومت اور فوج کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ' یہ پہلے کہتے تھے ہم زمینی آپریشن شروع کر رہے ہیں، زمینی آپریشن سے یرغمالیوں کو واپس لے آئیں گے، مگر یہ زمینی آپریشن تو نتائج نہیں دے رہا ہے۔ کہ جب سے یہ شروع کیا گیا کوئی یرغمالی زندہ واپس نہیں لایا جا سکا۔ اب انہیں اپنا مفروضہ تبدیل کرلینا چاہیے۔'

واضح رہے اسرائیل نے جنگ کرنے کا اعلان کرتے ہی یہ کہا تھا کہ اس کے دو مقاصد ہیں ' حماس کا خاتمہ اور یرغمالیوں کو واپس لانا ۔' لیکن یہ دونوں ہدف اڑھائی ماہ بعد بھی حاصل ہونے کا اطمینان اسرائیلی فوج اور اسرائیلی عوام کو نہیں مل سکا ۔ البتہ 19000 سے زائد فلسطینیوں کے قتل کی ذمہ داری اپنے سر ضرور لے لی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں