"ہم ہر روز پانی کا ایک پیالہ پیتے ہیں": غزہ کے بے گھر لوگ پیاس سے نڈھال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان گذشتہ 7 اکتوبر سے جاری لڑائی کے حل کی کوئی امید نظر نہیں آتی جب کہ محصور غزہ کی پٹی کے مکینوں کے مصائب میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

پانی کے بحران اور اس کی شدت پیاس سے موت تک پہنچنے کے خدشات کے جلو میں غزہ کے باشندوں کو پانی فراہم کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی تناظر میں ایک بے گھر فلسطینی نے العربیہ کو پینے کے پانی کے حوالے سے اپنی تکلیف کے بارے میں بتایا۔ اس نے کہا کہ "ہمیں پینے کے پانی کے حوالے سے بہت تکلیف کا سامنا ہے۔ جب ہمیں پانی ملتا ہے تو ہم صبح 3 بجے ایک چھوٹا سا گیلن بھرتے ہیں۔

بعض اوقات ہم میونسپلٹی کے پاس جاتے ہیں۔ میونسپلٹی کو بھی 100 لیٹر پانی ملتا ہے۔ صورتحال مشکل ہے۔ ہم دو تین دن تک پانی کے لیے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔

اس نے وضاحت کی "ہم صبح 3 بجے پانی لینے نکلتے ہیں، لیکن کئی بار ہم ناکام ہو جاتے ہیں"۔

اس نے ایک آہ بھرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ "آپ جانتے ہیں میں پانی کے لیے تھک گیا ہوں۔ میں ذاتی طور پر اس سے بیمار ہوں۔ بہت سے لوگ بیمار ہیں... میرا مطلب ہے۔ میں ہر روز صرف ایک کپ پیتا ہوں اور کبھی وہ بھی نہیں ملتا‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ العربیہ کوغزہ کے لوگوں کی طرف سے بہت سے پیغامات موصول ہوتے ہیں، جن میں ان کی مشکلات کا پتا چلتا ہے۔

غزہ کی پٹی میں انسانی حالات اس درجے ابتر ہوچکے ہیں کہ غزہ کو دنیا میں ’جھنم‘ سے بھی بدتر جگہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘ کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے غزہ کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے "افسوسناک اور جہنمی حالات" کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ غزہ کے محصور جنگ زدہ بدقسمت لوگ تین ماہ سے اس جھنم میں رہ رہے ہیں۔

منگل کو پٹی کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے اہلکار نے اس بات پر زور دیا کہ ’’غزہ کے لوگ گلیوں اور سڑکوں پر رہ رہے ہیں اور ہر چیز کے محتاج ہیں"۔ انہوں نے اس صورتحال کو "زمین پر جہنم" قرار دیا۔

"نہ ختم ہونے والا المیہ"

انہوں نے مزید کہا کہ محصور پٹی میں فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک "گہرا اور نہ ختم ہونے والا المیہ" ہے۔

انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ "لوگ ہر جگہ ہیں، وہ سڑک پر رہتے ہیں، اور انہیں ہر چیز کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ بے گھر فلسطینی شہری صرف سلامتی اور تحفظ اور اس جہنم کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

1.9 ملین بے گھر

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین ’UNRWA‘ نے 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی کے اندر تقریباً 1.9 ملین لوگوں کے بے گھر ہونے کی تصدیق کی تھی۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسرائیل کی طرف سے محصور غزہ کی پٹی کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہو گئی ہے۔

’اونروا‘ سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں نے گذشتہ مہینوں اور ہفتوں میں بارہا خبردار کیا ہے کہ غزہ کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے ہر قسم کی انسانی امداد، خوراک اور طبی امداد کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ وبائی امراض اور بیماریوں کے پھیلنے کے امکان سے بھی خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں