اریٹیریا کے جڑے ہوئے بچے آپریشن کے لیے ریاض پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پرجڑے ہوئے اریٹیرین بچے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اتوار17 دسمبر کو فضائی ایمبولینس کے ذریعے ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے ہیں۔

جڑے ہوئے بچوں اسما اور سمیہ کو پیچیدہ آپریشن کےلیے وزارت نیشنل گارڈز کے ماتحت کنگ عبداللہ سپیشلسٹ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق کنگ عبداللہ سپیشلسٹ ہسپتال کی میڈیکل ٹیم دونوں بچوں کا طبی معائنہ اورعلیحدہ کرنے کے آپریشن کی کامیابی کے امکانات کا جائزہ لے گی۔

یہ آپریشن شاہ سلمان مرکز امداد وانسانی خدمات کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کی زیر نگرانی کیا جائے گا۔

ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کا کہنا ہے کہ’ یہ اقدام سعودی عرب کی انسانیت نواز پالیسی کاعکاس ہے جو پوری دنیا تک پہنچ گئی ہے‘۔

جڑے ہوئے بچوں کے اہل خانہ نے مملکت آمد پرجوش خیرمقدم اور مہمان نوازی پر سعودی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

سعودی عرب جڑے بچوں کو الگ کرنے کے سب سے زیادہ آپریشن کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ ان کاوشوں کا اعتراف دنیا بھر کے ممالک اور تنظیمیں کررہی ہیں۔

واضح رہے سعودی عرب کی جانب سے سیامی بچوں کو جدا کرنے کے آپریشن کا آغاز سال 1990 میں کیا گیا تھا۔

اس دوران گزشتہ 33 برسوں میں 24 ممالک کے 133 سیامی بچوں کے کیسز ٹیم کے پاس آئے جن میں سے 58 بچوں کو کامیابی سے جدا کیا جاچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں