اسرائیل جان بوجھ کر غزہ کے شہریوں کو بھوکا مار رہا ہے: ہیومن رائٹس واچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے 'ہیومن رائٹس واچ' نے اسرائیلی فوج کی بمباری اور جنگی حکمت عملی کے بارے میں کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں فلسطینی شہریوں کو جان بوجھ کر بھوک سے مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسرائیل نے اس حکمت عملی کو فلسطینی علاقے میں اپنی جارحیت کا حصہ بنا رکھا ہے۔

اس امر کا اظہار انسانی حقوق کے غزہ کے بارے میں اپنی تازہ رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل اس بھوک کی حکمت عملی کو فلسطینیوں کے خلاف ایک جنگی حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیلی فوج کی طرف سے خوراک، پانی، ایندھن اور بجلی کی سپلائی روکی جاتی ہے، یا ان اشیاء کے اس کے پہنچنے میں تاخیر کی کوشش کی جاتی ہے۔

نیز غزہ کے زرعی علاقوں میں لوگوں کو فصلیں اگانے کا موقع نہ دینا بھی اسرائیلی فوج کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ وہ کھانے پینے کے معاملے میں خود کفیل نہ ہوسکیں۔

ہیومن رایٹس کی اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اسرائیل حقائق کو جھٹلانے کے بجائے ہیومن رائتس واچ پر یہ الزام لگا کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرلی ہے کہ یہ ادارہ یہودیوں اور اسرائیل کی دشمنی کرنا والا ادارہ ہے واضح رہے یہود دشمنی کی آڑ میں اسرائیل فلسطین کے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے میں کامیابی حاصل کیے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی حکومت نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ہیومن رائیٹس واچ نے اسرائیلی شہریوں پر حملے کی مذمت نہیں کی۔ واضح رہے کہ اسرائیلیوں کی ہلاکتیں 7 اکتوبر کو اسرائیلی فوجیوں سمیت کل 1139 تک رپورٹ کی گئی ہے۔

جبکہ اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں میں پچھلی کئی جنگوں کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ غزہ میں شہری ہلاکتوں کی تعداد 19000 سے متجاوز ہے جن میں فلسطینی بچوں اور عورتوں کی تعداد 70 فیصد کے قریب ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے اس وجہ سے بھی اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں کہ شہری ہلاکتوں کا سلسہ اب بھی جاری ہے اور بیسیوں شہریوں کی ہر روز ہلاکتیں ہو رہی ہے ۔ تاہم اسرائیل کی خواہش ہے کہ اس کی بمباری سے ہونے والی انسانی تباہی کا ذکر نہ کیا جائے کہ یہ یہود دشمنی نہ قرار پائے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان لائیر ہیات نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہیومن رائٹس واچ نے 7 اکتوبر کے قتل عام کی مذمت نہیں کی اور اس لیے اس کے پاس غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور حملوں کے بارے میں بات کرنے کا اخلاقی جواز نہیں ہے۔

غزہ میں جاری مسلسل بمباری مکی وجہ سے 19 لاکھ سے زائد فلسطینی اسرائیلی بمباری کے دوران بے گھر ہو کر نقل مکانی کر چکے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے سکولوں، مسجدوں، چرچوں اور ہسپتالوں کو بھی بمباری کا نشانہ بنا کر تباہ کیا ہے۔ حتیٰ کہ مریضوں، زخموں اور ایمبولینسوں کو بھی نہیں بخشا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں