اسرائیل غزہ میں زندگی کا نام و نشان مٹانا چاہتا ہے: ابو الغیط

اسرائیل ہزاروں لوگوں کو مار تو سکتا ہے کہ مگر فلسطینیوں کے آزادی کے خواب کو نہیں چھین سکتا: سربراہ عرب لیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے آج پیر کے روز کہا ہے کہ اسرائیل کا مقصد غزہ کی پٹی میں زندگی کے امکانات کو تباہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے حماس کو ختم کرنے کی آڑ میں جو جنگ چھیڑ رکھی وہ تباہ کن ہے اور اس کا مقصد زندگی کے تمام امکانات کو ختم کرنا ہے۔

ابو الغیط نے"ایکس" پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا مقصد "ایک پورے معاشرے کو ختم کرنا ہے۔ اس کے تانے بانے کو ختم کرنا اور آنے والے طویل عرصے تک غزہ کی پٹی میں زندگی کے امکانات کو ختم کرنا ہے‘‘۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اسرائیلی رہ نما اپنے اہداف کا اعلان کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔ وہ بغیر کسی ابہام کے کہتے ہیں کہ مستقبل میں کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہوگی۔ وہ ڈھٹائی کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر خودمختاری حاصل نہیں ہوگی۔ .

ابو الغیط نے کہا کہ "اسرائیل کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ فلسطینیوں پر دوسری نکبہ مسلط کرسکتا ہے۔ وہ ہزاروں فلسطینیوں کو جان سے مار سکتا ہے مگر ان کی خود مختاری، آزادی اور اپنی سرزمین کی اور زندگی کے خواب نہیں چھین سکتا۔

قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس تحریک نے غزہ کی سرحدی بار عبور کرتے ہوئے جنوبی اسرائیل میں فوجی اڈوں اور یہودی بستیوں پر حملہ کیا تھا۔ حماس کے حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی ہلاک اور تقریباً 240 افراد کو اغوا کر کے غزہ کی پٹی میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں جارحیت کا سلسلہ شروع کیا۔ شدید فضائی حملوں اور 27 اکتوبر سے شروع ہونے والی زمینی کارروائی اب تک تقریباً 19,000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔ حملے میں 52,000 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں