امریکہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے گا: وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

امریکہ نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ حماس کے خلاف اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے گا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی امریکی حکام نے تباہ شدہ غزہ میں فلسطینیوں کے لیے مزید انسانی امداد کا مطالبہ کیا۔

غزہ میں اب تک کی سب سے خوں ریز جنگ تیسرے مہینے میں بھی جاری ہے، حماس کے زیر انتظام علاقے میں وزارت صحت نے غزہ شہر کے قریب جبالیہ کیمپ پر حملوں میں مزید 110 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

اسرائیل کے دورے کے دوران امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا "ہمیں غزہ کے تقریباً 20 لاکھ بے گھر لوگوں کے لیے مزید انسانی امداد پہنچانی چاہیے اور اس امداد کو بہتر طریقے سے تقسیم کرنا چاہیے۔"

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ واشنگٹن "اسرائیل کا سب سے بڑا دوست" ہے اور وہ "اہم جنگی ساز و سامان، ٹیکٹیکل گاڑیاں اور فضائی دفاعی نظام" فراہم کرتا رہے گا۔

اس سے قبل اسرائیل کے کچھ قریبی اتحادیوں فرانس، برطانیہ اور جرمنی ہفتے کے آخر میں جنگ بندی کے لیے عالمی مطالبات میں شامل ہوئے اور اسرائیلی مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں سفید پرچم لہرانے والے تین افراد کی غلطی سے ہلاکت کے بعد مزاحمت کار گروپ حماس کے ساتھ مزید یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں۔

وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اصرار کیا ہے کہ اسرائیل اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک کہ وہ حماس کو اقتدار سے ہٹا نہیں دیتا، اس کی بدستور مضبوط فوجی صلاحیتوں کو کچل نہیں دیتا اور 7 اکتوبر کے حملے کے بعد اس گروپ کے زیر حراست تقریباً 129 یرغمالیوں کو واپس نہیں لے آتا۔

حماس کے خلاف 10 ہفتے پر محیط جنگ میں 18,700 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور شمالی غزہ کا بیشتر حصہ ویرانے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

تقریباً 1.9 ملین فلسطینی -غزہ کی آبادی کا تقریباً 85 فیصد- اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں جن میں سے زیادہ تر محصور علاقے کے جنوبی حصے میں اقوامِ متحدہ کے زیر انتظام پناہ گاہوں اور خیمہ بستیوں میں پناہ گزین ہیں۔

آسٹن جو جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل سی کیو براؤن کے ساتھ سفر کر رہے ہیں، ان سے توقع ہے کہ وہ اسرائیلی رہنماؤں پر ہدفی کارروائیوں کی صورت میں جنگ کو زیادہ درست مرحلے میں منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے جس کا مقصد حماس کے رہنماؤں کو ہلاک کرنا، سرنگوں کو تباہ کرنا اور یرغمالیوں کو بچانا ہے۔

امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل نے انخلاء کی مزید درست ہدایات فراہم کیں جب فوجیں اس ماہ کے شروع میں خان یونس کے جنوبی شہر میں منتقل ہوئیں حالانکہ فلسطینی کہتے ہیں کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں کیونکہ اسرائیل علاقے کے ہر حصے میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیل نے بھی غزہ کے ساتھ سامان کی ترسیل کی مرکزی گذرگاہ دوبارہ کھول دی تاکہ علاقے میں مزید امداد پہنچ سکے – جو ایک اور امریکی درخواست پر ہوا۔ لیکن داخل ہونے والی امداد کی تعداد اب بھی جنگ سے پہلے کی درآمدات کے نصف سے بھی کم ہے حالانکہ ضروریات میں اضافہ ہوا ہے اور اقوام متحدہ کے اداروں کہتے ہیں کہ جنوب میں لڑائی بہت سے علاقوں میں ترسیل میں رکاوٹ ہے۔

بے مثال موت اور تباہی

جنگ کا آغاز حماس کے ایک غیر معمولی حیرت انگیز حملے سے ہوا جس نے اسرائیل کے سرحدی دفاع کو مغلوب کردیا۔ ہزاروں مزاحمت کاروں نے جنوبی اسرائیل پر یلغار کر دی جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور تقریباً 240 مردوں، عورتوں اور بچوں کو اغوا کر لیا۔

حماس اور دیگر مزاحمت کاروں کے پاس اب بھی ایک اندازے کے مطابق 129 قیدی موجود ہیں جبکہ باقی میں سے بیشتر کو اسرائیل کی جانب سے گذشتہ ماہ جنگ بندی کے دوران 240 فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں رہا کر دیا گیا تھا۔ حماس نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے تک مزید یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔

7 اکتوبر کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے 21ویں صدی کے مہلک ترین فضائی اور زمینی حملوں میں سے ایک کا آغاز کیا۔

حماس کے زیرِ انتظام علاقے میں وزارتِ صحت نے مواصلاتی بندش جو اتوار کو ہی ختم ہوئی، سے پہلے جمعرات کو اپنی آخری تازہ معلومات میں کہا کہ 18700 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ مزید ہزاروں لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ وزارت نے عام شہریوں اور مزاحمت کاروں کی ہلاکتوں میں فرق نہیں کیا لیکن کہا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ کی جارحیت میں اس کے 126 فوجی مارے گئے ہیں۔ اس نے ثبوت فراہم کیے بغیر کہا ہے کہ اس نے ہزاروں مزاحمت کاروں کو شہید کر دیا ہے۔

اسرائیل شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری حماس پر عائد کرتا اور کہا ہے کہ وہ گنجان آباد رہائشی علاقوں میں کام کرتے وقت انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ لیکن فوج انفرادی حملوں پر شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتی ہے جن میں اکثر خواتین، بچے اور دیگر عام شہری جاں بحق ہو جاتے ہیں۔

اسرائیل کا ایک اور ہسپتال پر حملہ

مریضوں اور بے گھر لوگوں سے بھرے پڑے غزہ کے ہسپتالوں کے ارد گرد شدید لڑائی نے ان میں سے بیشتر کو خدمات سے محروم کر دیا ہے۔ اسرائیل مزاحمت کاروں پر صحت کی سہولیات میں پناہ لینے کا الزام لگاتا ہے اور کچھ معاملات میں ثبوت بھی فراہم کر چکا ہے۔ صحت کے حکام ان الزامات کی تردید کرتے اور کہتے ہیں کہ فوج نے لاپرواہی سے شہریوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا وہ گذشتہ کئی دنوں سے شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال پر اسرائیلی حملے سے "دہشت زدہ" ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے اتوار کو دیر گئے کہا، کم از کم آٹھ مریض ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک 9 سالہ بچہ بھی شامل ہے اور کئی پیدل بھاگ گئے ہیں کیونکہ ایمبولینسیں سہولت تک نہیں پہنچ سکیں۔

فوج نے کہا کہ "ہسپتال کے علاقے میں" کام کرنے والے فوجیوں نے درجنوں مشتبہ مزاحمت کاروں کو حراست میں لیا تھا جن میں سے کچھ 7 اکتوبر کے حملے میں شریک تھے اور "متعدد" ہتھیار اور فوجی حکمت عملی کا سامان ضبط کر لیا تھا۔ اس میں بغیر ثبوت فراہم کیے کہا گیا کہ حماس نے ہسپتال کو کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کیا۔

اسی طرح کا ایک تعطل گذشتہ ماہ غزہ شہر کے الشفاء اسپتال میں سامنے آیا - جو علاقے کا سب سے بڑا ہسپتال ہے - جہاں سیکڑوں مریض اور دسیوں ہزار بے گھر افراد بہت کم خوراک، پانی یا طبی سامان کے ساتھ کئی دنوں سے پھنسے ہوئے تھے۔

اسرائیل نے کہا کہ حماس نے ہسپتال کے اندر ایک بڑا کمانڈ سینٹر چھپایا ہوا تھا اور کچھ دن بعد پیچھے ہٹنے سے پہلے اس سہولت کے نیچے مزاحمت کاروں کی سرنگ کا انکشاف کیا۔

ڈبلیو ایچ او جو الشفاء میں خدمات کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے اور جمعہ کو دورہ کرنے کے قابل تھا، نے اپنے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کو "خون کی ہولی" قرار دیا جہاں سینکڑوں زخمی مریض تھے جن میں سے کچھ کو درد کی کم یا بغیر کسی دوا کے فرش پر لیٹے ہوئے ٹانکے لگائے گئے تھے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ خوراک اور پانی کی شدید قلت کے باوجود دسیوں ہزار لوگ میڈیکل کمپاؤنڈ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

علاقائی کشیدگی

جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل اور لبنان کی حزب اللہ تقریباً ہر روز سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ کرتے ہیں اور ایران کے حمایت یافتہ دیگر مزاحمت کار گروپ شام اور عراق میں امریکی اہداف پر حملے کر چکے ہیں۔ یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے اور اسے اسرائیل کی ناکہ بندی کے طور پر پیش کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیل ہگاری نے خبردار کیا کہ حزب اللہ "لبنان کو ایک غیر ضروری جنگ میں گھسیٹ رہی ہے جس کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔" فریقین نے 2006 میں ایک ماہ تک تباہ کن جنگ لڑی تھی۔

اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 300 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور 2005 کے بعد سے یہ فلسطینیوں کے لیے مہلک ترین سال ہے۔

امریکی دفاعی رہنما امید کر رہے ہیں کہ وہ مسلسل اعلیٰ سطح کی امریکی فوجی موجودگی اور ساتھ ہی اسرائیل پر زور دے کر کہ وہ اپنی کارروائیوں کو کم کرے، وسیع تر علاقائی تنازعات کے خطرے کو روکیں گے۔ صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اپنی "اندھا دھند بمباری" کی وجہ سے بین الاقوامی حمایت کھو رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان کا ملک حماس کے خلاف مزید کئی ماہ تک بڑی جنگی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں