فلسطین اسرائیل تنازع

برطانیہ اور جرمنی نے غزہ میں پائیدار جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون اور جرمن وزیر خارجہ اینا لینا بئیربوک نے مشترکہ طور پر غزہ میں فوری ضرورت کے طور پر پائیدار جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں یورپی ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اس امر کا اظہار برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں ایک مشترکہ مضمون میں کیا ہے۔

انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے قارئین کو بتایا ہے کہ غزہ میں شہریوں کی بہت زیدہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ اس لیے اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہوئے دونوں نے لکھا ہے کہ حماس کے خلاف تیز کارروائی کرے تاکہ انجام پائیدار ہو سکے۔

امریکہ اور یورپی حکومتوں میں اس سوچ کے اشارے اس سمت کی طرف پچھلے چند دنوں سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ جس کی توقع اور مطالبہ ان ملکوں سمیت دنیا بھر کی عوام اتنی زیادہ تباہی سے بہت پہلے کر رہے تھے۔ تاہم ابھی بھی ان حکومتوں کے عمل اور بیانات میں کچھ الجھاؤ اور فاصلہ موجود ہے۔

برطانوی اور جرمن وزرائے خارجہ نے لکھا ہے ' ہم سب کو وہ کچھ کرنا چاہیے جو ایک پائیدار جنگی بندی کے راستے کی طرف لے جا سکے اور اس کے نتیجے میں ایک پائیدار امن قائم ہو سکے۔ '

سلامتی کونسل میں 9 دسمبر کی جنگ بندی قرار داد کو امریکہ کی طرف سے ویٹو کیے جانے کے بعد یہ ایک مختلف تاثر دیا جارہا ہے۔

تاہم دونوں ملکوں کے اعلیٰ ترین سفارت کاروں کسی غلط فہمی کے پیدا ہونے سے پہلے ہی یہ لکھ کر اس کا پیشگی ازالہ کر دیا ہے ' ہم یہ یقین نہیں رکھتے کہ ابھی سے ایک مجموعی اور فوری جنگ بندی ہو جانی چاہیے۔ امید ہے یہ کچھ دیر بعد مستقل ہو سکے گی، فی الحال اس طرف کچھ بڑھنے کی ضرورت ہے۔' یاد رہے ماضی میں مختصر جنگی وقفوں کی بات کی جاتی رہی ہے۔

وزرائے خارجہ نے کہا ' یہ نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ اسرائیل اپنے دفاع پر کیوں مجبور ہوا۔ اصل بات یہ ہے کہ حماس نے بڑے خوفناک انداز میں حملہ کیا تھا۔ اب حماس کو اپنے ہتھیار لازماً چھوڑنا ہوں گے۔'

برطانیہ کی نائب وزیر اعظم اولیور ڈاؤڈن برطانوی حکومت کے لہجے کی اس تبدیلی کے بارے میں سوال پر کہا ' ہم چاہتے ہیں اب اسرائیل تحمل دکھائے۔' ہمیں معلوم ہے کہ اسرائیل بڑی مشکل صورت حال سے نمٹ رہا ہے، اگر آپ کسی ایسے دشمن کے پیچھے ہوں جو ہسپتالوں کے نیچے چھپ جاتا ہو، شہری آبادیوں میں گھس جاتا ہوا تو آپ کو شہری آبادیوں کے لیے بہت زیادہ تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ '

نائب وزیر اعظم نے وضاحت کے انداز میں کہا ' برطانیہ اسرائیل سے اسی تحمل کے لیے کہہ رہا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں