حماس 'مالی طور پر مستحکم'، اسرائیل کا مقابلہ کر سکتی ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

حماس غزہ میں مسلسل اسرائیلی حملے کا مرکز رہی ہے لیکن متنوع مالی صورتحال کے ساتھ یہ توقع ہے کہ تنازعے کی شدت کے ساتھ ساتھ اس کی مالی طاقت برقرار رہے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے 7 اکتوبر کو ملک کی تاریخ کا مہلک ترین حملہ کرنے والی فلسطینی تحریک کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اسرائیل کے مطابق مزاحمت کاروں نے 1,139 افراد کو ہلاک کیا، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے اور ایک اندازے کے مطابق 250 کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے جہاں 129 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بدستور اسیر ہیں۔

حماس کے زیر اقتدار فلسطینی علاقے کے حکام کے مطابق گذشتہ دو ماہ کے دوران غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری سے 18,800 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

لیکن اگر اسرائیل اپنے فوجی مقصد کی پیروی کرتا ہے تو حماس کی آمدنی کو کم کرنا بھی ایک مشکل کام ثابت ہوگا۔

کینیڈین گروپ insight threat intelligence کی صدر جیسیکا ڈیوس نے اے ایف پی کو بتایا، "حماس مالی طور پر مضبوط ہے۔"

گروپ نے بغیر کسی رکاوٹ کے کئی ممالک میں سرمایہ کاری اور آمدنی کے ذرائع قائم کیے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "اگر زیادہ عرصہ نہیں تو گذشتہ عشرے میں وہ ایک مضبوط مالیاتی نیٹ ورک بناتے رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، ان ذرائع میں ترکی، سوڈان اور الجزائر جیسے ممالک میں "چھوٹے کاروبار اور زمین جائیداد کی خرید و فروخت" شامل ہیں۔

حماس عطیات کے غیر رسمی نیٹ ورک پر بھی انحصار کرتی ہے۔

ترکی، متحدہ عرب امارات، یورپ اور امریکہ کے ذریعے چلنے والے کرنسی کے تبادلے کی وضاحت کرتے ہوئے فلسطینی معیشت کے ایک اسرائیلی ماہر یتزاک گال نے کہا، "یہ پیسہ ایکسچینج کرنے والوں کے ایک پیچیدہ نظام کو تیار کرنے اور چلانے میں بہت ماہر" ہو گئے ہیں۔

جنوبی غزہ کی پٹی کے رفح میں اسرائیل اور حماس کے مابین جاری تنازعہ کے درمیان فلسطینی ایک گھر پر اسرائیلی حملے کی جگہ کا معائنہ کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)
جنوبی غزہ کی پٹی کے رفح میں اسرائیل اور حماس کے مابین جاری تنازعہ کے درمیان فلسطینی ایک گھر پر اسرائیلی حملے کی جگہ کا معائنہ کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)

'کون جیئے گا اور کون مرے گا'

برسوں سے گروپ کا بڑا حمایتی تہران رہا ہے۔

اندازوں کے مطابق متنوع ذرائع سے ایران کا سالانہ تعاون 70 ملین اور 100 ملین امریکی ڈالر کے درمیان ہےجن میں کرپٹو کرنسی میں ادائیگی، نقدی کے سوٹ کیس اور غیر ملکی بینکوں کے ذریعے منتقلی اور غیر رسمی "حوالہ" سسٹم شامل ہیں۔

گال کے مطابق فوجی سازوسامان کی شکل میں ایرانی امداد گذشتہ برسوں میں مصر سے غزہ اور صحرائے سینا کے درمیان کھودی گئی سرنگوں کے راستے اسمگل کی جاتی تھی جو اب بند ہیں۔

حماس کو 2006 کے انتخابات میں فتح ملئ اور اگلے سال حریفوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اس نے اقتدار پر قبضہ کر لیا جس کے بعد اس علاقے کے اب 2.4 ملین باشندوں کے لیے رقم اور گروپ کے اپنے مالیات کے درمیان فرق دھندلا گیا ہے۔

گال نے کہا، "جو کچھ بھی آتا ہے وہ حماس میں چلا جاتا ہے اور وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون زندہ رہے گا اور کون مرے گا۔"

گال جو متویم تھنک ٹینک کے ماہر ہیں، نے کہا، "غزہ کی پٹی کے 2.5 بلین ڈالر کے بجٹ میں سے 1.1 بلین ڈالر اسرائیل کے معاہدے کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے آتے ہیں۔"

انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کے بعد رفح میں ایک میٹنگ میں شریک ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کے بعد رفح میں ایک میٹنگ میں شریک ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

عالمی برادری فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے کو فنڈز فراہم کرتی ہے۔

قطر سرکاری ملازمین جیسے ڈاکٹروں اور اساتذہ کی تنخواہیں ادا کرتا ہے اور علاقے کے 100,000 غریب ترین خاندانوں کو ماہانہ 100 ڈالر دیتا ہے – جو دوحہ کے مطابق 2012 اور 2021 کے درمیان ادائیگیوں کا کل 1.49 بلین ڈالر ہیں۔

'ایک بڑا مہاجر کیمپ'

2021 میں گیس سے مالا مال امارات نے جو امریکہ کی حمایت سے اپنے دارالحکومت میں حماس کے سیاسی بیورو کی میزبانی کرتا ہے، ساحلی فلسطینی سرزمین کو سالانہ 360 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا۔

دوحہ نے حماس کو مالی امداد فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔

ایک قطری عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا، "بغیر کسی استثناء کے قطر کی تمام امداد سے اسرائیل، امریکی حکومت اور اقوامِ متحدہ مکمل طور پر آگاہ ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ تمام سامان مثلاً خوراک، ادویات اور ایندھن غزہ میں داخل ہونے سے پہلے براہِ راست اسرائیل سے گذرتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے قطر کے سرکردہ یرغمالی مذاکرات کار اور سفارت کار عبدالعزیز الخلیفی نے عندیہ دیا تھا کہ غزہ کے لیے خلیجی امارات کی مالی امداد جاری رہے گی۔

اکتوبر میں واشنگٹن نے حماس کے 10 "کلیدی ارکان" پر پابندیاں عائد کیں اور مغرب زبردستی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ لیکن حماس کو مکمل طور پر منقطع کرنا غالباً ناممکن ہوگا۔

ڈیوس نے کہا، "حماس کے مالیاتی اداروں کی طویل مدتی مکمل تباہی کا امکان حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "آپ اس میں خلل پیدا کر سکتے ہیں، اہم کھلاڑیوں کو نکال سکتے ہیں، فنڈز کے ذرائع کو کم از کم کر سکتے ہیں لیکن نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر ہمیشہ موجود رہے گا اور اگر گروپ کے پاس اب بھی حامی ہیں تو وہ ان کی مدد کا بیعانہ ہو سکتے ہیں۔"

گال نے وضاحت کی کہ حماس کے مستقبل کے مالیات اس بات سے منسلک ہوں گے کہ مصر، اسرائیل اور بحیرۂ روم کے درمیان ایک چھوٹے سے علاقے غزہ کے مستقبل کو کیسے حل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا، "جب جنگ رک جائے گی اور معمول کی زندگی دوبارہ شروع ہو جائے گی تو سوال یہ ہوگا کہ کیا یہ پورا مالیاتی نظام دوبارہ شروع ہو گا یا بدل جائے گا؟"

"غزہ اب ایک بڑا مہاجر کیمپ ہے۔ ان مہاجرین کو خوراک، پانی اور پناہ گاہیں فراہم کرنے کا ذمہ دار کون ہوگا، حماس یا کوئی اور تنظیم، کوئی اور طریقہ کار؟"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں