حماس کا احتساب ہوگا لیکن غزہ میں جنگ بندی کے بعد: فلسطین لبریشن آرگنائزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سیکرٹری حسین الشیخ نے کہا ہے کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن فلسطینی عوام کے لیے واحد حوالہ ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حماس کا احتساب کیا جائے گا تاہم ایسا غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے بعد ہی ہوگا۔

انہوں نے اتوار کے روز العربیہ کو خصوصی بیانات میں واضح کیا کہ اب ترجیح غزہ میں جنگ بندی ہے۔ اس کے بعد احتساب کی بات آتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصر میں العلمین کے اجلاس کے بعد سے حماس کے ساتھ کوئی سنجیدہ اور باضابطہ رابطے نہیں ہوئے ہیں۔ حماس ہی نے تنظیم سے رابطے منقطع کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ایل او نے جدوجہد کی شکل کے حوالے سے حماس کو ایک معاہدے کی ضرورت سے آگاہ کیا تھا۔ ہم نے حماس کو کہا تھا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن ہی فلسطینی عوام کا واحد حوالہ ہے۔ انہوں نے تمام فلسطینی دھڑوں کی شمولیت کا خیرمقدم کرنے پر بھی زور دیا۔ تاہم انہوں نے پی ایل او کے ایجنڈے اور پالیسیوں کے تحت فلسطینی فیصلے کے اس دارالحکومت پر منحصر نہ ہونے کی ضرورت کی طرف بھی اشارہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل کے خلاف کسی بھی تصادم کے حوالے سے تمام فلسطینیوں کے درمیان اتفاق ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبادکاری کی سرگرمی اور اس آباد کاری سے متعلق امریکی رواداری نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو کمزور کیا۔ اسی طرح اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو فلسطینی تقسیم کو ہوا دینے کے لیے غزہ کی پٹی میں پیسہ لائے۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سیکرٹری حسین الشیخ سے جب مروان برغوثی کی شخصیت کے بارے میں پوچھا گیا اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے مستقبل میں ان کے کردار کے بارے میں بات کی گئی تو انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس کا فیصلہ بیلٹ باکس نے کرنا ہے ناکہ بیرونی طاقتوں نے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی ریاست فلسطین کا حصہ ہے اور ہمیں اس میں واپس جانے کا حق ہے۔ تمام فلسطینیوں کو متحد ہونا چاہیے اور مستقبل کے لیے ایک جامع وژن تیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتھارٹی غزہ کی پٹی سے غائب نہیں ہے اور ہم اس کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فلسطینی اتھارٹی ہر ماہ غزہ کی پٹی کے لیے 140 ملین ڈالر مختص کرتی ہے۔

انہوں نے کہا اتھارٹی غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لیے دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ رابطے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی گروپوں کے درمیان تصفیہ کا نقطہ نظر کامیاب نہیں ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں