شام کی سرحد پر اردنی فوج کی منشیات کے اسمگلروں کے ساتھ جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کی فوج نے پیر کے روز کہا کہ اس نے شام کی سرحد کے ساتھ مسلح منشیات فروشوں کے ساتھ صبح سویرے جھڑپوں کے بعد اسلحہ اور منشیات قبضے میں لے لی ہیں اور حکام نے کہا کہ مسلح افراد کا تعلق ایران نواز ملیشیا سے تھا جو ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔

فوج نے کہا کہ درانداز کئی فوجی اہلکاروں کو زخمی کرنے کے بعد سرحد پار واپس بھاگ گئے تھے۔ اور مزید کہا کہ ضبط شدہ ہتھیاروں میں خودکار رائفلیں اور راکٹ شامل تھے۔

اردنی حکام اپنے مغربی اتحادیوں کی طرح کہتے ہیں کہ منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں اضافے کے پیچھے لبنان کا ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ اور ملیشیا ہے جو جنوبی شام کے زیادہ تر حصے پر قابض ہے۔

حزب اللہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ ایران کہتا ہے کہ یہ الزامات ملک کے خلاف مغربی سازشوں کا حصہ ہیں۔

فوج نے ایک بیان میں کہا، "گزشتہ چند دنوں میں ان کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو دراندازی کی کوششوں اور اسمگلنگ سے مسلح جھڑپوں میں تبدیل ہو رہے ہیں جس کا مقصد طاقت کے ذریعے سرحد پار کرنا اور سرحدی محافظوں کو نشانہ بنانا ہے۔"

فوج نے کہا کہ وہ "ان مسلح گروہوں کا سراغ لگانا اور مملکت کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو روکنا جاری رکھے گی"۔

اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور امریکی حکام نے کہا ہے کہ منشیات کی غیر قانونی تجارت شام میں ایران نواز ملیشیا اور حکومت نواز نیم فوجی دستوں کے پھیلاؤ کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے جو ایک عشرے سے زائد عرصے سے جاری تنازعے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں