غزہ کی سرحد پر سب سے بڑی کاروں کی راہگزر سرنگ دریافت کرلی: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے اسرائیل میں ایک مصروف کراسنگ کے قریب ایک بڑی کنکریٹ اور لوہے کی سرنگ کی دریافت کرنے کا دعویٰ کردیا۔ بعض مقامات پر یہ سرنگ 50 میٹر تک گہری ہے اور اس میں سے کاروں کے گزرنے کی گنجائش ہے۔

سرنگ کا داخلی راستہ بھاری قلعہ بند ’’ایریز‘‘ کراسنگ اور قریبی اسرائیلی فوجی اڈے سے صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ چوکی سے صرف 100 میٹر جنوب میں ہے۔ اسرائیلی فوج نے صحافیوں کو سرنگ سے باہر نکلنے کا راستہ دکھایا۔ اس سرنگ کو حماس کا بڑا منصوبہ قرار دیا گیا۔

صہیونی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ 4 کلومیٹر سے زیادہ کی مسافت تک پھیلی ہوئی سرنگ ہے۔ یہ سرنگ غزہ میں ایک وسیع و عریض سرنگ کے نیٹ ورک سے منسلک ہے۔ اس سرنگ نے سات اکتوبر کو گاڑیوں، عسکریت پسندوں اور دیگر رسد کو عبور کرنے میں سہولت فراہم کی ہے۔

چار کلومیٹر لمبی سرنگ

اسرائیلی فوج کے چیف ترجمان ایڈمرل ڈینئل ہگاری نے یہ بھی کہا کہ سرنگ کی کل لمبائی چار کلومیٹر ہے جو شمالی غزہ شہر تک پہنچنے کے لیے کافی ہے۔ شمالی غزہ تباہ شدہ جنگی علاقے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ غزہ میں ہمیں جو سب سے بڑی سرنگ ملی ہے وہ ایریز کراسنگ تک پہنچی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سرنگ میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ اس سرنگ کو بنانے میں برسوں لگے اور اس میں سے گاڑیاں بھی گزر سکتی تھیں۔

تنگ اور گہری

فلسطینی تحریک یا اسرائیلی فوج اپنی دریافت کے بعد جو سرنگیں میڈیا کے سامنے ظاہر کرتی ہیں ان میں سے زیادہ تر تنگ اور نیچی ہیں اور ان کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ عسکریت پسند انفرادی طور پر پیدل ان سے گزر سکیں۔

تاہم ہگاری نے جو سرنگ دکھائی اس میں کالم تھے جو عمودی طور پر نیچے کی طرف ڈھلتے تھے۔ ہگاری نے بتایا کہ یہ سرنگ ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ تھی۔

سرنگ کے اندر کار

ہگاری نے صحافیوں کو حماس کے ایک رہنما اور یحییٰ السنوار کے بھائی محمد السنوار کا ایک ویڈیو کلپ بھی دکھایا جو ایک کار کی مسافر سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہگاری کے بہ قول محمد سنوار یہ کار سرنگ کے اندر چلا رہے تھے۔ یاد رہے یہ سرنگیں اسرائیلی انجینئروں کے لیے ایک چیلنج ہیں جنہیں خدشہ ہے کہ یہ نیٹ ورک حماس کے قیدیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان سرنگوں کی وجہ سے اسرائیلی حملے میں سست روی آئی اور فلسطینی شہریوں کے بھاری نقصان کی وجہ سے عالمی طاقتوں میں تشویش پھیل گئی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے سرنگ نیٹ ورک کو تباہ کرنا ایک اہم مقصد ہے۔ سرنگوں کا زیادہ تر نیٹ ورک سکولوں، ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں کے نیچے سے گزرتا ہے۔

سات اکتوبر سے شروع جنگ میں اسرائیل نے وحشیانہ بمباری اور زمینی دراندازی کرکے 19000 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں