فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ: یرغمال تین اسرائیلیوں کا اپنی جانیں بچانے کے عجیب مگر ناکام حربے کا انکشاف

’اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے یرغمالیوں نے سفید پرچم لہرائے اور بچ جانے والے کھانے سے عبرانی میں لکھا کہ تین اسرائیلیوں کی مدد کی جائے مگر اسرائیلی فوجیوں نے انہیں بھی گولیاں مار کر ہلاک کردیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں "حادثاتی طور پر" ہلاک ہونے والے تین یرغمالیوں کے بارے میں اتوار کو اسرائیلی فوج کی طرف سے اہم اور چونکا دینے والی معلومات سامنے آئیں۔

فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مغویوں نے مدد مانگنے کے لیے دو نشانات بنائے اور بچے ہوئے کھانے سے ان پر خود کو بچانے کے الفاظ اس امید کے ساتھ لکھے کہ انہیں بچا لیا جائےگا مگر شومئی قسمت ایسا نہ ہوسکا اور وہ تینوں اسرائیلی بمباری میں مارے گئے۔ اسرائیلی فوجیوں نے انہیں پہچاننے میں غلطی کی اور انہیں حماس کے جنگجو سمجھ کر گولیاں ماردیں۔

فوج نے دو بینرز کی ایک تصویر بھی پوسٹ کی جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مغویوں نے اپنے قتل پہلے بنائے تھے۔ ان میں سے ایک پر انھوں نے "SOS" لکھا تھا جس کا مطلب ہے مدد کی درخواست کرنا تھا۔

دوسری نشانی میں انہوں نے اس پر عبرانی زبان میں لکھا: " تین قیدیوں کی مدد"۔ اس وقت وہ غزہ کی پٹی کے علاقے الشجاعیہ میں ایک عمارت کے اندر تھے۔

فوج کا تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے ایک بیان میں کہا کہ جس عمارت میں مغوی موجود تھے وہ ان کے قتل کی جگہ سے 200 میٹر کے فاصلے پر تھی۔ ایسا لگتا ہے انہونے مدد کی نشانیاں بچ جانے والے کھانے سے بنائی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں ابھی تک نہیں معلوم کہ وہ کتنی دیر تک عمارت کے اندر رہے۔ ہم دوسری عمارتوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جن میں وہ چھپے ہوئے ہوں گے۔ ہم اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھیں گے"۔

ہفتے کے روز اسرائیل نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں تین مغوی افراد کو "غلطی سے" اس کے فوجیوں نے پٹی میں فوجی آپریشن کر کے ہلاک کر دیا، حالانکہ وہ تینوں سفید پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔

فوج نے بتایا کہ تینوں کی عمریں بیس سال کے لگ بھگ ہیں اور ان کی شناخت یوتم ہیم، ایلون شمریز اور سمیر الطلقاء کے ناموں سے کی گئی ہے۔

یہ "ہدایات کے خلاف" تھا

اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے کہا کہ یہ واقعہ ’’ہدایات کی خلاف ورزی‘‘ ہے۔ انہوں نے ہفتے کے روز فوج کی طرف سے شائع ہونے والی ایک ویڈیو تقریر میں نشاندہی کی کہ یہ واقعہ "تکلیف دہ اور ہولناک" تھا جب یرغمالی فوجی جوانوں کی طرف بڑھے تو ہماری فورسز کی طرف سے ان پر گولیاں چلائی گئیں۔

ہلیوی نے مزید کہا کہ "جو کچھ ہوا اس کی ہم ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور ہم لڑائی کے بعد کے مراحل میں اس طرح کے واقعات کی تکرار کو روکنے کے لیے اپنی بساط میں ہر ممکن کوشش کریں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں