فلسطین اسرائیل تنازع

ہلاک شدہ یرغمالی کہ بھائی کی طرف سے اسرائیلی فوج کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں ہلاک ہونے والے تین اسرائیلی یرغمالیوں میں سے ایک یرغمالی ایلون شمریز کے بھائی نے اسرائیلی فوج کو اپنے بھائی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسرائیلی فوج کی مذمت کی ہے۔

26 سالہ ایلون شمریز بھی غزہ میں شجاعیہ نامی آبادی میں سفید پرچم اٹھائے کھڑا تھا اور اسرائیلی فوج کو بتا رہا تھا کہ وہ جنگجو نہیں مگر اسرائیلی فوج نے اسے بھی اپنے خطرہ سمجھتے ہوئے گولی مار دی تھی۔

اس کے ساتھ دو دیگر یرغمالیوں کو بھی اسرائیلی فوج نے ڈرے ہوئے انداز میں مار دیا تھا کہ کہیں یہ فلسطینی نہ ہوں اور ہم ان کے ہاتھوں مارے جائیں۔

اتوار کے روز ایلون شمریز کو تل ابیب کے شمال میں دفنایا گیا، اس موقع پر اس کے رشتے دار اور اہل خانہ موجود تھے، جب شمریز کے بھائی ایڈو نے اسرائیلی فوج کی سخت مذمت کی۔

اس کی ماں ڈکلہ کہہ رہی تھی، تم نے جہنم میں 70 دن زندہ رہتے ہوئے گزار لیے تھے کاش ایک لمحہ میری بانہوں اور گذار لیتے۔'

جمعہ کے روز ان تین یرغمالیوں کی موت کی خبر اور لاشوں کی اسرائیل آمد کے بعد پورے اسرائیل میں احتجاج کی ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے۔ مظاہرین اسرائیل فوج پر اسرائیل کے اندر بھی جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھانے لگے ہیں۔ تاکہ حماس کے ساتھ مذاکرات کر کے یرغمالیوں کو زندہ واپس لایا جائے۔

ادھر اتوار ہی کے روز اسرائیلی فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچٹ نے کہا ہے کہ ان تین یرغمالیوں کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں موت کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے اس وقت حماس کی قید میں ایک سوانتیس یرغمالی باقی ہیں۔ جن کے اہل خانہ جنگ بندی کا مطالبہ شدت سے کرنے لگے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں