ہمارے فوجیوں نے غلطی سے 3 یرغمالیوں کو قتل کر دیا: اسرائیلی فوجی سربراہ کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی چیف آف سٹاف ہرزی ہیلیوی نے اعتراف کیا کہ ان کے فوجیوں نے غزہ کی پٹی میں 3 اسرائیلی یرغمالیوں کو غلطی سے ہلاک کردیا حالانکہ وہ سفید جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے اتوار کو ایک بیان میں مزید کہا کہ جس واقعے میں فوجیوں نے غلطی سے 3 قیدیوں کو مار ڈالا وہ ایک مشکل اور تکلیف دہ واقعہ تھا۔

ہرزی ہیلیوی نے کہا 70 روز تک جہنم میں زندہ رہنے والے تین قیدی اپنے فوجیوں کی طرف بڑھے اور ہماری فورسز کی فائرنگ سے مارے گئے۔ غزہ کی پٹی میں فوجی اور ان کے رہنما یرغمالیوں کو زندہ چھڑانے سے زیادہ کچھ نہیں چاہتے۔ اس معاملے میں ہم ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

انہوں نے بات جاری رکھی اور کہا میرا خیال ہے کہ تینوں قیدیوں نے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے تاکہ ہم سمجھ سکیں ۔ وہ بغیر قمیض کے آگے بڑھے تاکہ ہمیں یہ شبہ نہ ہو کہ ان کے پاس دھماکہ خیز مواد ہے اور وہ سفید کپڑے کا ٹکڑا اٹھائے ہوئے تھے تاکہ ہم سمجھ جائیں کہ ان کو گولی مارنا قوانین کے خلاف تھا۔ سفید جھنڈا اٹھانے والے اور چاہنے والے کو گولی مارنا منع ہے تاکہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔ لیکن یہ فائرنگ لڑائی اور دباؤ کے دوران ہوئی۔

اسرائیلی فوج نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ میں 3 اسرائیلی یرغمالیوں کو حادثاتی طور پر ہلاک کر دیا ہے۔ یہ واقعہ شجاعیہ کالونی میں پیش آیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ تینوں قیدی ابتدائی طور پر اپنے اغوا کاروں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ تاہم وہ اپنی ہی فوج کی فائرنگ سے مارے گئے۔ وہاں موجود اسرائیلی فورسز کا خیال تھا کہ انہیں "خطرہ" لاحق ہے۔ یاد رہے اسرائیلی فوج نے جن یرغمالیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ان کی تعداد لگ بھگ 22 ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں