اسرائیلی فضائیہ کی غزہ میں اندھا دھند بمباری کے دعووں کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فضائیہ کے افسران نے پیر کے روز حماس کے خلاف جنگ میں اپنے اقدامات کا دفاع کیا کیونکہ انہیں غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔

ایک افسر نے تل ابیب کے جنوب میں بحیرۂ روم کے ساحل پر پالماخیم ایئر بیس کے فوج کے انتظام کردہ دورے کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا، "ہم جتنے بھی بم استعمال کرتے ہیں وہ انتہائی درستگی سے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔"

سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے 7 اکتوبر کو حماس کے مہلک حملوں کے فوجی ردِعمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس میں اسرائیل میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

جنوبی اسرائیل پر فلسطینی مزاحمت کاروں کے بے مثال حملوں کے کچھ ہی دیر بعد فوج نے پہلے فضائی حملوں کی ایک بڑی مہم کے ساتھ جواب دیا اور بعد میں زمینی افواج کو محصور غزہ میں بھیج دیا۔

حماس کے زیرِ اقتدار علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملے میں جس کا مقصد حماس کو تباہ کرنا تھا، غزہ میں کم از کم 19,453 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

غزہ میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد اسرائیل کے لیے بین الاقوامی بشمول قریبی اتحادیوں کی طرف سے سرزنش کی وجہ بنی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو فلسطینی سرزمین پر ’اندھا دھند‘ بمباری کی وجہ سے بین الاقوامی حمایت سے محروم ہو جانے کا خطرہ ہے۔

بائیڈن نے کہا، "میں چاہتا ہوں کہ وہ اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ کس طرح شہریوں کی جانیں بچائی جائیں۔ حماس کا تعاقب ضرور کریں لیکن زیادہ محتاط رہیں۔"

لیکن اسرائیلی افسر کے لیے جس کا نام اسرائیلی سنسرشپ قوانین کی وجہ سے اشاعت سے روک دیا گیا ہے، "ہمیں امریکیوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ ہم ہلاکتوں کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔"

اسرائیلی فورسز کا مقصد "ابتدا ہی سے" شہری ہلاکتوں کو محدود کرنا تھا، اس بات کی دلیل انہوں نے یہ کہہ کر دی کہ "بین الاقوامی تشویش کی وجہ سے 'ہمیں اپنے اصولوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں تھی'۔"

امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی طیاروں کی طرف سے گرائے گئے گولہ بارود میں سے تقریباً نصف "غیر رہنمائی شدہ" بم تھے جو محدود درستگی کے ساتھ بغیر ہدایات کے اپنے نشانے پر صرف کششِ ثقل کی بنا پر گرتے ہیں۔

اسرائیلی افسر نے کہا، یہ غلط ہے۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ موجودہ جنگ میں استعمال ہونے والے 'کوئی غیر رہنمائی شدہ بم' نہیں تھے۔

"تمام بموں کے درست (اہداف) ہیں جن میں سے کچھ جی پی ایس، ان میں سے کچھ کیمروں، اور کچھ " لڑاکا طیاروں" میں کمپیوٹر کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔"

اسرائیل کا اصرار ہے کہ بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کی ذمہ دار حماس ہے۔ اسرائیل گروپ پر معصوم فلسطینیوں کو "انسانی ڈھال" کے طور پر استعمال کرنے اور ہسپتالوں، اسکولوں اور اقوامِ متحدہ کی تنصیبات سے کام کرنے کا الزام لگاتا ہے۔

فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگاری نے پیر کو کہا کہ حماس کے لیے عام شہریوں کی ہلاکت ایک حکمتِ عملی ہے۔

"ہمارے لیے یہ ایک المیہ ہے۔"

فضائیہ کے افسر نے کہا، "2.4 ملین آبادی کا ایک تنگ علاقے غزہ میں " پرہجوم علاقوں میں شہری، رہائشی اور دہشت گرد موجود ہیں"۔

"ہمیں ایک طرف بہت مضبوط ہونے اور بہت زیادہ گولہ بارود استعمال کرنے (اور) دوسری طرف ان کا درست استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں