حزب اللہ کے جنگجووں کے جنازوں پر بمباری کی اسرائیلی کوشش، کوئی جانی نقصان نہ ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل نے پیر کے روز لبنانی سرحدی علاقے میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو اس وقت بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جب اس سے وابستہ ایک جنگجو کے جنازے کا جلوس چل رہا تھا، اس بمباری کے نتیجے میں جلوس سے متصل ایک بلڈنگ کو نقصان پہنچا ہے، تاہم سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

سات اکتوبر2023 سے اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر بھی مسلسل اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دو طرفہ گولہ باری دیکھنے میں آرہی ہے۔ جو بعض اوقات جانی نقصان کا بھی باعث بنتی ہے۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے پیر کے روز حزب اللہ کے ان لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے بمباری کی جو اپنے ہی جنگجو ساتھی حسن سرور کی نماز جنازہ کے لیے سرحدی قصبے ایتا الشعب جمع ہوئے تھے۔

تاہم اس بمباری کی زد میں ایک بلڈنگ آئی۔ جو جنازے کے جلوس سے محض چالیس میٹر کے فاصلے پر تھی۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق بمباری سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

بظاہر لگتا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں کی اس بمباری کا مقصد جنازے میں شریک سینکڑوں افراد اور جنگجووں کو محض ڈرانا تھا۔ لیکن اس بمباری کے باوجود یہ لوگ جنازے میں شریک رہے۔

بعد ازاں موقع پر پہنچنے والے اے ایف پی کے ایک نمائندے کے مطابق بمباری کا نشانہ ایک ایسی بلڈنگ کی چھت بنی۔ جس میں کوئی رہائش نہیں تھی، ایک خالی عمارت ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اس بمباری کے بعد حزب اللہ کے ایک اور جنگجو کے جنازے کو روکنے کے لیے بیت لیف میں اسرائیلی سرحد کی طرف سے توپوں کے گولے فائر کیے گئے۔ یہ گولے جنازے کے قریب ہی گرے مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

سات اکتوبر کے بعد سے اسرائیل نے حزب اللہ کے 130 جنگجووں کو گولہ باری اور بمباری سے ہلاک کر دیا ہے۔ جبکہ اتوار کو حزب اللہ نے اپنے مزید تین جنگجووں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ البتہ ان کے علاقے کی نشاندہی نہیں کی تھی۔

علاوہ ازیں اسرائیلی گولہ باری کی وجہ سے دو اڑھائی ماہ کے دوران 17 عام لبنانی شہری اور فوجی بھی نشانہ بنے ہیں۔ جبکہ اسرائیل کے حکام کے مطابق اسرائیلی سرحد کی طرف سات فوجیوں سمیت گیارہ اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں