غزہ : اہلی ہسپتال بھی اسرائیلی حملےسے جزوی تباہی کے بعد بند ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں اڑھائی ماہ سے بلا امتیاز جاری اسرائیلی بمباری سے کسی قدر محفوظ رہ جانے والے اور جزوی طور پر بچے ہوئے ہسپتالوں میں سے ایک اور ' اہلی ہسپتال' بھی بالآخر فوجی حملے کے بعد منگل کے روز سے مکمل بند ہو گیا ہے۔

اہلی ہسپتال جنوبی غزہ میں بروئے کار تھا۔ جنوبی غزہ آجکل اسرائیلی بمباری کا بطور خاص ہدف ہے۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر فاضل نعیم نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے پیر کے روز ہسپتال پر حملہ کیا اور ڈاکٹروں کو بھی گرفتار کر کے لے گئی۔

انہوں نے مزید بتایا 'دوسرا طبی عملہ، مریض اور زخمی بھی گرفتار کر کے فوج ساتھ لے گئی۔ جبکہ ہسپتال کی عمارت کا بھی ایک حصہ اس دوران اسرائیلی فوج نے تباہ کر دیا ہے۔ '

ڈائریکٹر ہسپتال کے مطابق اسرائیلی فوج کے اس حملے کے بعد ہسپتال کو آپریشنل رکھنا ممکن نہیں رہا، ہم اس پوزیشن میں نہیں رہے کہ کسی ایک بھی زخمی یا مریض کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کر سکیں۔

فاضل نعیم نے کہا 'پیر کے روز فوج کے حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے اب تک کم از کم چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہیں اہلی ہسپتال میں ہی زخمی کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں اس حملے کے دوران ارد گرد کی گلیوں میں بھی زخمی ہونے والوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔

یاد رہے اہلی ہسپتال اہلی عرب ہسسپتال کے نام سے مشہور ہے۔ 17 اکتوبر کو بھی اسرائیلی فوج نے اسے اپنی بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔ اس دوران بھی درجنوں افراد کی ہسپتال کے اندر ہلاکتیں ہو گئی تھیں۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے الٹا اس کی ذمہ داری عسکریت پسندوں کے راکٹوں پر ڈال دی تھی۔ غزہ میں جو فوج سکولوں، مسجدوں اور چرچ تک کو حملوں سے محفوظ نہیں رہنے دیتی اس نے ہسپتالوں کو بھی اندھا دھند نشانہ بنایا ہے۔ ان میں غزہ کا سب سے بڑا 'الشفاء ہسپتال' بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں