فلسطین جنگ1948ء کا سعودی سپاہی جو120 سال کی عمر میں بھی صحت مند ہے

فلاح الشراری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے اپنی پرانی یادیں تازہ کیں۔ انہوں نے بتایا وہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود سے بھی ملے اوراسرائیل کےخلاف جنگ میں ایک سعودی سپاہی کے طور پر خدمات انجام دی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان سنہ 1948ء کی جنگ اس اعتبار سے یادگار ہے کیونکہ اس میں تقریبا تمام عرب ممالک کی افواج نے بھی حصہ لیا تھا۔

اس تاریخی جنگ میں لڑنے والوں میں سعودی عرب کے فلاح الشراری بھی شامل ہیں جو ابھی تک پیرانہ سالی کے باوجود صحت مند ہیں۔ ان کی عمر 120 سال ہوچکی ہے مگر وہ اب بھی پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الشراری نے کہا کہ ’’سعودی ریاست بانی مرحوم شاہ عبدالعزیز کے زمانے سے ہی سعودی عرب فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے۔ صہیونی جارحیت کے خلاف فلسطینیوں کی مدد کے لیے شاہ عبدالعزیز نے اپنی فوج بھی بھیجی جس میں وہ بھی شامل تھے‘‘۔

انہوں نے بتایا کہ فلسطین میں غاصب صہیونیوں سے لڑنے والے سعودی دستے میں ایک سو سے زائد سپاہی شامل تھے

ان الفاظ کے ساتھ ایک سعودی فوجی جس کی تعداد ایک سو سے زائد تھی۔ سات اکتوبر کی اس جنگ کی یادیں آج بھی ان کے سینے میں محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے فلسطینی کاز کو زندہ رکھنے اور فلسطدین کی آزادی کی خواہش کو برقرار رکھا اور اب بھی برقرار رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسئلہ فلسطین اس کی تاریخی ترجیحات میں شامل کر دیا گیا ہے۔

فلاح الشراری جو مملکت کے شمال سے تعلق رکھتے ہیں نے فلسطین کی جنگ کو یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے 1948ء میں رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔ وہ اس جنگ میں شامل ہونے کے لمحات کو فراموش نہیں کرسکتے۔

الشراری کی عمر 120 سال ہے۔ وہ شاہ عبدالعزیز آل سعود کے ہم عصر تھے، اور ان سے طائف میں اُن سے ملاقات ہوچکی ہے۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اسرائیل کے خلاف جنگ میں اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے پرانی یادیں تازہ کیں۔

شاہ عبدالعزیز کا حکم

اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے فلاح الشراری نے کہا کہ ہم نے فلسطین کی جنگ کے بارے میں سنا اور ریاست کی رضامندی کے بعد اس میں حصہ لیا۔ پھر بانی شاہ عبدالعزیز کے حکم سے گروہوں کو داخل ہونے کا حکم ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی مملکت اپنے بانی شاہ عبدالعزیز کے زمانے سے لے کر آج تک فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے، کیونکہ اس نے اپنے بیٹوں کو اسرائیل کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے اس وقت کے روایتی ہتھیاروں رائفلوں اور مشین گنوں سے یہ جنگ لڑی۔ تب ان کے گروپ کے پاس 50 کیلیبر مشین گنیں تھیں۔

تاریخ کی کتابیں جنگ کی گرمی میں سعودی فوج کی پوزیشنوں کو محفوظ رکھتی ہیں کیونکہ 1948ء میں جارحیت کو پسپا کرتے ہوئے سعودی فوجیوں کے اپنے خون سے فلسطینی سرزمین کو سیراب کیا۔

فلاح الشراری اپنی کہانی کے تناظر میں کہتے ہیں کہ سعودی فوج فلسطین کے کئی شہروں میں داخل ہوئی۔ ہم اللد اور رملہ ایئرپورٹ تک پہنچ گئے۔ جیسے ہی ہم نے فلسطین کے شہروں میں قدم رکھا۔ فلسطین کے لوگوں نے ہمارا استقبال کیا۔انہوں نے اس وقت ہماری آمد کا جشن منایا اور فلسطین کی آزادی کے مشن میں ہماری بہادری کو سراہا۔

راستہ بھول جانے کا واقعہ

سعودی عرب کے طبرجل گورنری میں رہنے والے الشراری فلسطین میں ہونے والی لڑائیوں کی درندگی کو نہیں بھولتے۔ وہ ہمیں اپنی کہانی سناتے ہوئے کہتے ہیں۔اس دوران وہ ایک بار سعودی افواج کے مقام پر واپس جانے کا راستہ بھول گئے۔ میں اسرائیلی فوج کی خندقیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔

مجھے یقین تھا کہ میں مرنے والا ہوں۔ اس لیے میں نے جلدی جلدی کلمہ شہادت کا ورد شروع کردیا۔ گولیوں کی بوچھاڑ کے باوجود میں بچ گیا مگر میں گولیاں لگنے سے زخمی ہوچکا تھا۔ اسرائیلیوں نے مجھے بے دردی سے قتل کرنے کا موقع تلاش کیا۔

میں نے بہادری کے ساتھ اپنے راستے پر جانے کا فیصلہ کیا مگر مجھے نہیں معلوم تھا کہ گولیاں کہاں سے آرہی ہیں۔ الحمد للہ میں بچ گیا میں نے اپنے سامنے والے پانی کے کنویں میں چھلانگ لگانے کی ترغیب دی۔ میں نے اس طرح چھلانگ لگائی جیسے میں خواب میں ہوں۔ میں گڑھے کی گہرائی میں رہا۔ اس دوران جھنڈا لہرتےریڈ کراس کی گاڑیاں آئیں۔ انہوں نے مجھے سعودی فورسز تک پہنچانے میں مدد کی۔

فلاح الشراری سعودی فوجی سروس میں رہ چکے ہیں اور اب ان کی عمر سو سال سے زیادہ ہے۔ وہ فلسطین کے بارے میں خبروں کو دلچسپی سے سنتے ہیں۔

الشراری کہتے ہیں: اب میں الحدث چینل پر فلسطین کی خبروں کو فالو کرتا ہوں۔ فلسطین ایک بار پھر میدان جنگ بنا ہوا ہے جس میں بڑی تعداد میں فلسطینی شہید ہو رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں