فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد غزہ کا ہسپتال سروس فراہم کرنے سے قاصر ہے: ڈائریکٹر

اسرائیلی حملے میں الاہلی ہسپتال کی عمارت جزوی تباہ، ڈاکٹر اور مریض گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شمالی غزہ کی پٹی کے ایک آخری باقی ماندہ ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ منگل کو اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد ہسپتال نے کام کرنا بند کر دیا۔

فادل نعیم نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے الاہلی ہسپتال پر حملہ کیا، ڈاکٹروں، طبی عملے اور مریضوں کو گرفتار کر لیا اور عمارت کے کچھ حصے کو تباہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے حملے نے "اسپتال کو سروس فراہم کرنے سے قاصر کر دیا ہے۔ ہم کسی مریض یا زخمی کو نہیں لے سکتے۔"

انہوں نے بتایا کہ کم از کم چار افراد جو پیر کو اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے، منگل کو الاہلی حملے کے بعد دم توڑ گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق اردگرد کی گلیوں میں درجنوں افراد زخمی ہیں۔

الاہلی جسے بپٹسٹ یا اہلی عرب ہسپتال بھی کہا جاتا ہے، اسے پہلے ہی 17 اکتوبر کو کار پارک میں ہونے والے دھماکے سے بہت زیادہ نقصان پہنچا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔

مزاحمت کار گروپ حماس اور اسلامی جہاد اس کا الزام اسرائیل پر لگاتے ہیں جو اس کی ذمہ داری سے انکار کرتے ہیں اور اس دھماکے کے لیے اسلامی جہاد کی جانب سے غلط فائر کیے گئے راکٹ کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ اسپتالوں کو بار بار اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوجیوں نے اس سے قبل غزہ میں دیگر طبی سہولیات بشمول علاقے کے سب سے بڑے الشفاء ہسپتال پر حملہ کیا جو اب ایک بہت ہی چھوٹی ٹیم کے ساتھ کم از کم صلاحیت پر کام کر رہا ہے۔

اتوار کے روز عالمی ادارۂ صحت نے کہا کہ الاہلی ہسپتال کو سرجری کے لیے الشفاء سے "انتہائی نازک مریض" موصول ہو رہے تھے۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والا الشفاء ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ "بڑی خونریزی کا شکار" ہوا ہے اور اسے "دوبارہ بحالی کی ضرورت ہے"۔

حماس کے زیرِ انتظام علاقے میں وزارتِ صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے منگل کو بتایا کہ شمالی غزہ میں جبالیہ کے علاقے میں العودہ نامی ایک اور ہسپتال کو اسرائیلی فوج نے "بیرکوں" میں تبدیل کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا فوج نے ہسپتال میں 240 افراد کو حراست میں لے رکھا ہے "جن میں 80 طبی عملہ اور 40 مریض شامل ہیں" اور اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد مہنا کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیل کو غزہ میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور ہسپتالوں کی تباہی پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔

تنگ علاقے میں اب تک کی مہلک ترین جنگ حماس کے مزاحمت کاروں کی طرف سے سرحد پار کرنے اور وحشیانہ حملے کے بعد شروع ہوئی جس میں اسرائیل میں 1,139 افراد ہلاک ہوئے۔ جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ یہ اسرائیل کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق ہے۔

حملے کے دوران مزاحمت کاروں نے تقریباً 250 افراد کو اغوا کر لیا اور غزہ کی پٹی لے گئے۔

وہاں کی وزارتِ صحت کے مطابق حماس کے خلاف اسرائیل کے جوابی حملے میں فلسطینی علاقے میں کم از کم 19,667 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں