اسرائیل حماس کے مکمل خاتمے تک جنگ بندی نہیں کرے گا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھر بدھ کے روز اپنے اس اعلان کو دہرایا ہے کہ اسرائیل غزہ سے حماس کے مکمل خاتمے تک کوئی جنگ بندی نہیں کرے گا۔

اڑھائی ماہ سے حماس کے خلاف بر سر جنگ اسرائیلی وزیر اعظم نے بدھ کے روز اس وقت کہی ہے جب اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ وارسا نے قطری وزیر اعظم کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ اسرائیل 30 یرغمالیوں کے بدلے میں جنگ بندی کرنے کو تیار ہے۔ جبکہ ایک روز پہلے اسرائیلی صدر نے بھی حماس کے ساتھ جنگ بندی پر آمادگی کا اشارہ دیا تھا۔

نیتن یاہو نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا کہ ہم جنگ بند نہیں کریں گے جب تک کہ ہم اپنے طے شدہ اہداف حاصل نہ کر لیں۔ ہمارے اہداف میں حماس کا خاتمہ، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ سے اسرائیل کے لیے کسی بھی قسم کے خطرے کا امکان ختم کرنا ہے۔

واضح رہے کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ اور مصر کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ممکنہ جنگ بندی کی تجاویز پر غور کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی غزہ میں جنگی وقفے کے لیے امکانی ووٹنگ کی تیاری میں ہے۔ اس قرارداد پر ووٹنگ سلامتی کونسل کے ارکان نے دو دنوں سے مؤخر کر رکھی ہے تاکہ قرارداد کے مسودے میں پائے جانے والے اختلاف کو دور کیا جاسکے۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں ہر جگہ حماس کے عسکریت پسندوں پر حملے کر رہی ہیں۔ جو بھی کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم جنگ کو روک دیں گے وہ حقائق کا ادراک نہیں رکھتا۔ ہم حماس پر آگ کے شعلوں کی طرح برس رہے ہیں اور حماس کے ساتھیوں پر دور اور نزدیک دونوں طرح سے حملہ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں