فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں مارے گئے نظر بندوں کے بارے تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے فوج اس بارے میں تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے کہ جو لوگ غزہ میں آپریشن کے دوران گرفتار ہوئے ان کی ہلاکتیں کس طرح ہوئیں۔

فوجی ترجمان نے ' اے ایف پی ' سے بات کرتے ہوئے کہا ' دہشت گردوں کے فوج کے ہاتھوں قید ہونے کے بعد فوج کے حراستی مراکز میں ہونے والی ہلاکتوں سے ہم آگاہ ہیں، تاہم ان ہلاکتوں کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ '

واضح رہے اسرائیلی فوج سات اکتوبر سے غزہ میں شروع کی گئی اپنی جنگ میں زیر حراست لیے گئے فلسطینیوں کے بارے میں ابھی تک کسی قسم کی تفصیلات نظر عام پر نہیں لائی ہے، کہ ان زیر حراست لیے گئے لوگوں کی تعداد اور شناخت کیا ہے یا انہیں کہاں اور کس حال میں رکھا گیا ہے۔

حتٰی کہ یہ بھی نہیں بتایا کہ ان میں سے کتنے فلسطینیوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا اور ان کی لاشیں کہاں رکھی گئی ہیں۔ اسی بارے میں میڈیا کی طرف سے پوچھے جانے پر اسرائیلی فوجی ترجمان نے تحقیقات کرنے کا بتایا ہے۔

تاہم غیر رسمی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ سینکڑوں فلسطینیوں کو جنوبی اسرائیل میں قائم حراستی مراکز میں قید کیا گیا ہے۔ منگل کے روز ایک اہم اسرائیلی روزنامے نے ان فلسطینی قیدیوں میں سے متعدد کے ہلاک ہونے کو رپورٹ کیا ہے۔ یہ ہلاکتیں ڈی تیمان فوجی اڈے میں بیر شیوا شہر سے متصل رپورٹ کی گئی ہیں۔

فوج کے ان حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اور ہاتھوں پاؤں کو ہتھ کڑیاں لگا کر رکھا جاتا ہے، نیز ان حراستی مراکز میں ساری رات تیز روشنیاں جلائی جاتی ہیں۔

ان لوگوں کے گرفتاری کے ساتھ ہی کپڑے اتروا کے تقریباً نیم برہنہ حالت میں کر دیا جاتا ہے۔ حماس کے علاوہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور مہذب حکومتوں نے بھی قیدیوں کو نیم برہنہ کرنے کے واقعات کی مذمت کی تھی۔

تاہم اسرائیلی ترجمان کا کہنا تھا کہ 'اسرائیل میں یہ ایک معمول ہے۔' مراد یہ کہ اسرائیل میں ایسے ہی کیا جاتا ہے۔ نیز ترجمان کا موقف تھا کہ 'یہ حماس کے دہشت گرد ہیں۔ جو لوگ عام شہری ہوتے ہیں انہیں فوری رہا کر کے غزہ واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ '

یاد رہے پچھلے ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج نے اپنی کامیابیوں کو ظاہر کرنے کے لیے ان نیم برہنہ قیدیوں میں سے بعض کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل کی تھیں۔ جس پر اسرائیل کوکافی مذمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں