فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کی سڑکیں میدان جنگ میں تبدیل، اسرائیل کا حماس کے 300 اہداف پر حملوں کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بدھ کے روز غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان کشیدگی اور لڑائی میں شدت آئی ہے۔ اطلاعات کےمطابق غزہ میں کئی مقامات پر سڑ

کیں میدان جنگ کا منظر پیش کررہی ہیں جب کہ ہر گذرتے لمحے میں غزہ کے جنگ سے تباہ حال عوام کی مشکلات اور مصائب میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

تازہ ترین فیلڈ پیش رفت میں آج غزہ کے دوسرے بڑے شہر خان یونس کی گلیوں میں اسرائیلی فوج اور حماس کے عسکریت پسندوں کے درمیان پرتشدد لڑائی جاری ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیل شمالی اور وسطی غزہ کی پٹی میں جبالیہ اور خان یونس کے علاقوں پر "شدید" اور مسلسل بمباری کر رہا ہے۔ ایجنسی نے مقامی ذرائع اور صحافیوں کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت مزید درجنوں شہری مارے گئے ہیں۔

درایں اثناء اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں 300 اہداف پر حملے کیے۔ ان حملوں میں حماس کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ قابض فوج کے مطابق تازہ بمباری میں حماس کے دسیوں جنگجو مارے گئے ہیں اور حماس کے فوجی ٹھکانوں کا انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے.

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ زمینی فورسز نے خان یونس کے علاقے میں حماس کے ایک فوجی ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کیا۔ تازہ کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج نے اسلحہ ، گولہ بارود، دھماکہ خیز آلات اور مارٹر گولے قبضے میں لینے کا اعلان بھی کیا۔

قبل ازیں فلسطینی میڈیا نے بتایا تھا کہ غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع جبالیہ پر فائر بیلٹ اور توپ خانے کے گولوں سے اسرائیلی نے شدید حملے کئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ المغراقہ میں القسام کے ارکان اور اسرائیلی فوج کے ارکان کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

اسی دوران اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ فوج نے جنوبی غزہ میں ایک اور افسر کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے جس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 133 ہو گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے کہا ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج غزہ کے پورے علاقے سے حماس سمیت تمام فلسطینی عسکریت پسندوں کا صفایا کرے گی۔ انہوں نے غزہ کے علاقے خان یونس کو "دہشت گردی کا نیا دارالحکومت" قرار دیا۔

ادھر اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے رپورٹ کیا کہ تل ابیب نے قطر کو مطلع کیا کہ وہ حماس کے زیر حراست 40 قیدیوں کی رہائی کے بدلے ایک ہفتے کی جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔

اخبار نے مزید کہا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ حماس ان خواتین کو رہا کرے جو ابھی تک اس کی قید میں ہیں۔ اس کے علاوہ 60 سال سے زائد عمر کے مردوں اور بیماروں کی رہائی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

اسرائیل نے ان فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جنہیں گذشتہ ڈیل میں رہا کیے جانے والے قیدیوں سے زیادہ سنگین حملوں کے مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

اسی دوران حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ آج بدھ کو مصرمیں مذاکرات کررہے ہیں جہاں وہ غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں