فلسطینیوں نے 1974ء میں کویت میں جاپانی سفیر کو کیوں اغوا کیا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سنہ 1972ء کے دوران تھائی لینڈ فلسطینی بلیک ستمبر تنظیم کے ارکان کے ہاتھوں بنکاک میں اسرائیلی سفارت خانے میں متعدد اسرائیلی سفارت کاروں کے اغوا کے واقعات سے گذرا۔ تھائی حکام اور تھائی لینڈ میں مصری سفیر کی کوششوں کی بہ دولت یہ بحران پرامن طریقے سے جانی نقصان کے بغیر حل ہو گیا تھا۔ صرف دو سال بعد 1974ء میں خلیجی ریاست کویت میں اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے نے کویتیوں کو حیران کر دیا تھا۔ پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین کے ارکان نے کویت میں متعدد جاپانی سفارت کاروں کو اغوا کر لیا جس پر کویت میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

سنگاپور میں جہاز کی ہائی جیکنگ

31 جنوری 1974ء کو جاپانی ریڈ آرمی اور پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین سے تعلق رکھنے والے چار بندوق برداروں نے سنگاپور کے جزیرے پلاؤ بکم میں رائل ڈچ شیل سے تعلق رکھنے والی آئل ریفائنری پر حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں مسلح افراد نے لاگو جہاز اور اس کے پانچ رکنی عملے کو ہائی جیک کر لیا۔ اس واقعے کے بعد سنگاپور نیوی کے جہاز جائے وقوعہ پر پہنچے اور اغوا کیے گئے جہاز لاگو کو گھیرے میں لے کر ہائی جیکروں کو ہتھیار ڈالنے کا کہا۔

اغوا کے دوران بنکاک میں اسرائیلی سفارت خانے کی عمارت کا ایک حصہ
اغوا کے دوران بنکاک میں اسرائیلی سفارت خانے کی عمارت کا ایک حصہ

7 دنوں تک اغوا کاروں نے مغوی کو یرغمال بنائے رکھا۔ پھر سنگاپور کے حکام سے بات چیت کے لیے آگے بڑھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام مغوی افراد کی رہائی کے بدلے انھیں مشرق وسطیٰ کی طرف خطے سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔ مذاکرات کے ایک سلسلے کے بعد جاپانی ریڈ آرمی اور پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے عسکریت پسندوں نے تمام قیدیوں کو قتل کی دھمکی دی۔ سنگاپور کے حکام نے 6 فروری 1974 کو اغوا کاروں کے مطالبات پر اتفاق کرلیا۔

جاپانی سفیر کا اغوا

سنگاپور میں رونما ہونے والے ان واقعات کے درمیان 6 فروری 1974 کو کویتی باشندے اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے اپنے ملک میں جاپانی سفارت کاروں کے اغوا کی خبر سنی۔ اس دن پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے متعدد بندوق برداروں نے کویت میں جاپانی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا اور کویت میں جاپانی سفیر کو ان کے کئی ساتھیوں سمیت اغوا کر لیا۔

اپنے بیانات میں ہائی جیکرز نے اس وقت تصدیق کی کہ وہ یہ کارروائی سنگاپور میں اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے کر رہے تھے جو پہلے جہاز لاگو کو ہائی جیک کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے ارکان نے جاپانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ جاپانی اور فلسطینی عسکریت پسندوں کو جو جہاز لاگو پر سوار تھے کو کویت کی طرف لے جانے کے لیے ایک نجی طیارہ سنگاپور بھیجے۔

1969 میں پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے متعدد ارکان کی تصویر
1969 میں پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے متعدد ارکان کی تصویر

7 فروری 1974 کو جاپان نے اغوا کاروں کی شرائط کو قبول کرنے کا اعلان کیا اور کویتی حکام کو خط لکھا۔ اس میں ایک نجی جاپانی طیارے کو اغوا کاروں کو سنگاپور میں لے جانے اور کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت دینے کی پیشکش کی گئی۔

کویت کے اغوا کاروں کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کے باوجود جاپانی طیارے نے سنگاپور اور کویت دونوں میں یرغمالیوں کو آزاد کرانے کے بعد جاپانی اور فلسطینی اغوا کاروں کو جہاز پر لے کر جنوبی یمن کے شہر عدن میں اترنے کے لیے سنگاپور سے اڑان بھری۔ یوں اس واقعے کا ڈراپ سین سینگا پور سے یمن میں فلسطینی عسکریت پسندوں کی منتقلی پر ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں